مکہ مکرمہ ( نمائندہ خصوصی):مناسکِ حج کے باقاعدہ آغاز سے قبل مکہ مکرمہ میں موجود دنیا بھر کے 15 لاکھ سے زائد عازمینِ حج سمیت پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مسجد الحرام میں حج سیزن کا آخری نمازِ جمعہ ادا کیا۔جمعہ کی نماز کے لیے عازمین کا ایسا تاریخی ہجوم امڈ آیا کہ مسجد الحرام کے اندرونی حصے اور صحن صبح سویرے ہی مکمل طور پر بھر گئے۔ جگہ نہ بچنے کے باعث لاکھوں عازمین نے مسجد کے باہر کئی کلومیٹر تک پھیلی ہوئی مکہ کی بڑی شاہراہوں اور متبادل راستوں پر صفیں بنا کر نماز ادا کی جس سے روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے۔مکہ مکرمہ کی سڑکوں سے موصول ہونے والے ویڈیو مناظر عازمینِ حج کے بے پناہ جوش و جذبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔ العزیزیہ اور حرم کو ملانے والے فلائی اوورز کے نیچے ہزاروں عازمین نے تپتی سڑکوں پر سایہ دار جگہوں کا فائدہ اٹھایا اور گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے سبز اور سفید رنگ کی چھتریاں تانے خطبہ جمعہ سنا۔ اسی طرح مسجد عائشہ روڈ اور مکہ کے دیگر مرکزی روٹس پر عازمینِ حج کے پیدل قافلے جوق در جوق ڈسپلن کے ساتھ متبادل عبادت گاہوں کی طرف بڑھتے
دیکھے گئے، جبکہ زیرِ تعمیر پراجیکٹس اور ہوٹلوں کے سامنے تک کا پورا علاقہ نماز کی صفوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔غیر معمولی رش اور حرم شریف کے قبل از وقت مکمل بھر جانے کے باعث سعودی انتظامیہ نے سیکیورٹی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے حرم ٹرانسپورٹ (شٹل سروس) اور ٹیکسی سروس کو عارضی طور پر بند کر دیا تاکہ اندرونِ حرم مزید بھیڑ نہ بڑھے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، حکام نے ضعیف اور عمر رسیدہ افراد سمیت خواتین کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ حرم شریف کے طویل سفر کے بجائے اپنے ہوٹلوں کے نزدیک واقع مقامی مساجد میں ہی نمازِ جمعہ ادا کریں۔مکہ مکرمہ کے شدید گرم موسم کے باعث پاکستان حج مشن نے تمام عازمینِ حج کو سختی سے تاکید کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ براہِ راست تپتی دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، اپنے ہمراہ پانی کی بوتلیں رکھیں اور چھتریوں کا لازمی استعمال کریں تاکہ مشاعر آپریشن (منیٰ و عرفات روانگی) سے قبل ان کی صحت اور توانائی محفوظ رہ سکے۔

