اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال سے انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ملاقات کی، ملاقات میں صحت کے شعبے سمیت دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشا کے گہرے مضبوط مراسم ہیں ۔ وزیر صحت مصطفی کمال نے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات بارے بتایا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 13 بیماریوں کی ویکسین بچوں کو مفت فراہم کی جارہی ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی۔ حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے۔ انٹر نیشنل اداروں کی جانب سے ویکسین کی قیمت کا بڑا حصہ ادا کیا جاتا ہےجس کے باعث حکومت پر مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہاکہ 2030 تک فنڈنگ بیرونی اداروں کی زیرو ہو جائے گی پاکستان کو سارا بوجھ خود برداشت کرنا پڑے گا۔ پاکستان ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے پر عزم ہے ۔ پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی پروڈکشن کے لئے تیزی سے کام جاری ہے۔ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے انڈونیشیا ہمارا لیڈنگ پارٹنر ہے ۔ پاکستان نے نیشنل ویکسین پالیسی بنالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کو یقینی بنارہی ہے۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور دونوں ممالک صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے مل کر کام کرنے کےعزم کا اعادہ کیا۔

