اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور ویکسی نیشن کے بین لاقوامی ادارے گاوی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی 79ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان میں ویکسی نیشن کوریج میں بہتری، شراکت داری کے فروغ اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا شکریہ ادا کرتے ہوئےگاوی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت کا تحفظ اور ویکسی نیشن کوریج میں اضافہ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی ویکسین پالیسی کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے اور اس کے موثر نفاذ کےلئے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ویکسین کی مقامی پیداوار کے فروغ کےلئے
انڈونیشیا، چین اور سعودی عرب جیسے ممالک کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے جبکہ اس ضمن میں گاوی سے تکنیکی رہنمائی اور مشاورت کی درخواست بھی کی گئی ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کمیونٹی آگاہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں میڈیا کے ذریعے موثر آگاہی مہمات کی کمی کے باعث ایچ پی وی ویکسی نیشن کے پہلے مرحلے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نےعوامی اعتماد بحال کرنے کےلئے اپنی بیٹی کو ویکسین لگوا کر عملی مثال قائم کی، جس کے نتیجے میں ویکسین کی قبولیت 80 فیصد تک بڑھ گئی۔انہوں نے شراکت دار اداروں پر زور دیا کہ شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے میڈیا مہمات کو نہایت حکمتِ عملی کے ساتھ ترتیب دیا جائے تاکہ ایچ پی وی ویکسی نیشن کے دوسرے مرحلے میں مزید بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان نے گاوی کے ساتھ اپنی کو-فنانسنگ ذمہ داری ادا کر دی ہے جو حکومت کے عزم اور پائیداری کی جانب ایک واضح اور مضبوط اشارہ ہے۔وفاقی وزیر نے مشکل اور دور دراز علاقوں میں ہیکسا ویلنٹ ویکسین کے پائلٹ منصوبے کےلئے گاوی سے معاونت کی درخواست بھی کی تاکہ مستقبل میں پینٹا ویلنٹ سے ہیکسا ویلنٹ ویکسین کی جانب منتقلی کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پولیو پروگرام اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے درمیان ہم آہنگی اور انضمام کے حوالے سے حکومت 2027 کے وسط تک فیصلہ کرے گی جبکہ دونوں پروگرامز کی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے اہم عہدوں پر تقرریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔ سی ای او گاوی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وفاقی وزیرِ صحت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گاوی کےلئے ایک ترجیحی ملک ہے اور تنظیم پاکستان میں ویکسی نیشن کوریج میں اضافے اور کمیونٹی سطح پر پائی جانے والی مزاحمت کے خاتمے کےلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے شفافیت اور موثر میڈیا مہمات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مشکل علاقوں میں ہیکسا ویلنٹ ویکسین کے پائلٹ منصوبے کی حمایت کا یقین دلایا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان کی جانب سے کو-فنانسنگ ادائیگی کو حکومتی ملکیت اور پائیداری کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ گاوی کی ٹیم پاکستان کے ویکسی نیشن پروگرام کو مزید مضبوط بنانے کےلئے معاونت فراہم کرنے کےلئے تیار ہے۔

