اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے زیر اہتمام آبی و زمینی خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے ووسرا پاک چین سمپوزیم اختتام پذیر ہو گیا جس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، پروفیسر کانگ شی چانگ، پروفیسر محمد قاسم جان اور دیگر ماہرین نے مشترکہ تعاون پر زور دیا جبکہ پاکستان اور چین نے آفات کے خطرات کے تدارک، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے اور سائنسی تحقیق میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا گیا۔منگل کو این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق دوسرا پاک
چین سمپوزیم 18تا19 مئی 2026ء تک این ڈی ایم اے ہیڈ کواٹر اسلام آباد میں جاری رہا۔ اسی سلسلے کا پہلا پاک چین سمپوزیم 27تا28 اگست2025ء کو ہوا تھا۔سمپوزیم میں دونوں ممالک کے ماہرین نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی تحقیق اور تجربات کا تبادلہ کیا۔سمپوزیم کے پہلے دن وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔دوسرے اور آخری دن ٹیکنیکل سیشنز میں پاکستان اور چین کے ماہرین نے آبی اور زمینی مسائل،، گلیشئر اور موسمیاتی خطرات پر تحقیق و تجربات شیئر کیے۔سمپوزیم کے شرکا نے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا دورہ کیا۔شرکا کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کو درپیش موسمیاتی خطرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔چین اور پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی، آبی اور زمینی خطرات کے عنوان پر ڈاکٹر لی یو کی زیر صدارت اعلی سطحی پینل ڈسکشن ہوئی ۔این ڈی ایم اے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، پروفیسر کانگ شی
چانگ، پروفیسر محمد قاسم جان اور دیگر ماہرین نے مشترکہ تعاون پر زور دیا۔پاکستان اور چین نے آفات کے خطرات کے تدارک، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے اور سائنسی تحقیق میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا۔اختتامی سیشن میں چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہناتھا کہ سائنسی جدت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ کوششوں سے خطے کو محفوظ بنائیں گے ابتدائی انتباہ کے نظام کو مضبوط بنانے، سائنسی شراکت اور علاقائی تعاون کے ذریعے موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔دونوں ممالک ممکنہ خطرات کے تدارک کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ سمپوزیم میں اقوام متحدہ، سفارت کاروں، ماہرین اور محققین کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔

