اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)بنگلہ دیش سول سروسز کے انتظامی کیڈر سے تعلق رکھنے والے سینئر افسران پر مشتمل 12 رکنی وفد نے پاکستان کے 21روزہ مطالعاتی دورے کے سلسلے میں اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ ایف بی آر کا یہ دورہ ’’پالیسی انوویشن‘‘ کے موضوعاتی جزو کا حصہ تھا، جو اس پروگرام کے دوران وفد کے زیرِ مطالعہ تین بنیادی شعبوں میں شامل ہے، جبکہ دیگر دو شعبے ’’گورنمنٹ سسٹم‘‘ اور ’’ایجوکیشن لیڈرشپ‘‘ ہیں۔ وفد کے ہمراہ سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ اور اکیڈمی کے فیکلٹی اراکین بھی موجود تھے۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے ایف بی آر پہنچنے پر معزز وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر گفتگو
کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی روابط اور انتظامی و گورننس کے مشترکہ ورثے کے حامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سول سرونٹس کے دوروں کے تبادلہ سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، گورننس کے تجربات کے تبادلے اور دونوں دوست ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔ انہوں نے وفد کو ایف بی آر میں شفافیت، کارکردگی اور ادارہ جاتی استعداد بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی اہم اصلاحات اور بہتری کے لئے اٹھائے گیے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران چیئرمین نے شرکاء کو کرپشن کے خاتمے، تبادلوں اور تقرریوں میں اقربا پروری کے کلچر کے سدباب اور موزوں افراد کو اہم ذمہ داری دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔ چیئرمین ایف بی آر نے افسران کی اے سےڈی تک درجہ بندی کی بنیاد پر نافذ کئے جانے والے جدید پرفارمنس ایویلیوایشن سسٹم(Performance Evaluation System) کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئے نظام کے تحت اہم عہدوں پر تعینات 90 فیصد سے زائد افسران کیٹیگری اے اور بی سے تعینات کیے گئے ہیں۔پاکستان کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروس کے سینئر افسران نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد کوپوائنٹ آف سیل انٹیگریشن(Point of Sale Integration)، کمپلائنس رسک مینجمنٹ(Compliance Risk
Management) ، افسران کی صوابدید ختم کرنے کے لیے فیس لیس کسٹمز سسٹم(Faceless Customs System)، کارکردگی سے منسلک مارکیٹ مسابقتی تنخواہوں کے نفاذ اور مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی پیداواری نگرانی کے نظام سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں ممبرآئی آر آپریشنز، ممبر کسٹمز آپریشنز اور ممبر ایڈمنسٹریشن نے بھی شرکت کی۔بنگلہ دیشی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری محترمہ سلمیٰ صدیقہ مہتاب کر رہی تھیں جبکہ اس میں سینئر جوائنٹ سیکریٹریز محمد مصطفیٰ جمال حیدر، ابو ریحان میاں، فیروز احمد، محمد منیرالاسلام، توفیق امام، ریحان اختر، اے ایف ایم احتشام الحق، محمد شمس الحق، محمد عبدالسلام، ڈاکٹر ظل الرحمن اور ضیاء احمد سمن شامل تھے۔وفدکے اراکین نے ایف بی آر کےانتظامی ڈھانچہ ، ادارہ جاتی استعداد اور اصلاحات پر مبنی اقدامات کو سراہا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ اس دورے سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات بنگلہ دیش میں بھی اسی نوعیت کی اصلاحات اور جدت متعارف کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی نے وفد کی میزبانی اور ادارے کے عملی و اصلاحاتی پہلوؤں سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنے پر چیئرمین ایف بی آر کا شکریہ ادا کیا۔یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ادارہ جاتی تعاون اور انتظامی تجربات کے تبادلے کے ذریعے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

