اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو ملک گیر شٹر ڈاؤن ، پہیہ جام ہوگا، سڑکیں بلاک کردیں گے ، حکمران عوام کا خون نچوڑنا بند کریں۔ اٹھارہ مئی کو پٹرولیم لیوی کو آئینی عدالت میں چیلنج کرینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد آب پارہ چوک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف بڑے احتجاج مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ،امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم ، امیر کے پی وسطی عبدالواسع اور سیکریٹری اسلام آباد جماعت زبیر صفدر نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔ ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ ، معاون خصوصی امیر جماعت عمیر ادریس ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مظاہرہ میں سابق
رکن اسمبلی عائشہ سید اور ناظمہ اسلام آباد قدسیہ ناموس کی قیادت میں خواتین نے بھی بہت بڑی تعداد شرکت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا اسلام آباد سے مہنگائی کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگیا، ہفتہ کو چترال اور اس سے اگلے روز دیر پائیں میں تاریخی جلسے ہوں گے، ملک گیر ہڑتال اورپہیہ جام پر مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ جاری احتجاجی تحریک میں عید کے بعد مزید تیزی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اب تک پٹرولیم لیوی سے آٹھ ہزار چھیاسٹھ ارب اکٹھے کیے ، اس میں سے سو ارب بھی پٹرولیم انفراسٹرکچر (Infrastructure ) کی بہتری پر نہیں لگایا گیا، حکمران عوام سے ٹیکس وصول کرکے عیاشیاں کرتے اور آئی پی پیز مالکان کا پیٹ بھرتے ہیں۔ حکمرانوں نے پٹرولیم لیوی لگا کر صرف موٹر سائیکل سواروں سے چھ ہزار ارب بٹور لیے،امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کچھ وزراء نے پٹرولیم کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا عندیہ دیا ہے، حکمران ایسا کرنے سے باز رہیں، ایسا نہ ہو کہ عوام کا غضب انہیں حسینہ واجد کی طرح بھاگنے کا موقع بھی نہ دے، بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کو تو ائیر لفٹ (Air lift) مل گئی تھی، ہمارے حکمرانوں کو یہ بھی نہیں ملے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے عوام سے ٹیکس اکٹھا کرکے آئی پی پیز مالکان کو چونتیس سو ارب دے دیے، ٹیکس کے اہداف کے حصول اور اشرافیہ کو نوازنے کے لیے غریبوں کا خون چوسنے کا سلسلہ بند کیا جائے، وزیراعظم سینے پر پتھر رکھ کر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے اعلانات کے ڈرامے بند کریں ، چچا اور بھتیجی عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے اپنی تشہیر اور بہتر کارکردگی کے دعوے کرنا بھی بند کریں ، ملک میں پونے تین کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، صرف پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، انہیں سکول بھیجنے کی بجائے پنجاب میں سکولوں کو ہی بیچا جارہا ہے، بنیادی مراکز صحت کو فروخت کرکے انہیں مریم نواز کلینک کے نام دیے جارہے ہیں، دھاندلی سے مسلط ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، زراعت کی شرح نمو ساڑھے چھ فیصد سے اعشاریہ پانچ فیصد پر آگئی، کسان سے گندم مقررہ امدادی قیمت پر خریدی نہیں جارہی ، غریب کو سستا آٹا نہہں مل رہا، حکمرانوں کی شوگر ملوں میں اضافہ ، عوام کا شوگر لیول کم ہورہا ہے۔ مسلط اشرافیہ اناسی برس سے قوم کو نچوڑ رہی ہے۔ ن لیگ ، پی پی نے آئی پی پیز معاہدے کرکے ملک و قوم پر ظلم کیا، دیگر حکومتیں بھی برابر کی شریک ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرول کی ایک لٹر قیمت چارسو پندرہ روپے میں سے ایک سو بیس لیوی اور پچاس روپے دیگر ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں، حکومت بجلی کے بلوں پر بھی کئی قسم کا ٹیکس وصول کرتی ہے، گیس مہنگی ہے ، سولر پر ٹیکس لگا دیا گیا، حکمرانوں تمام ظالمانہ اقدامات واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرسودہ نظام کو ہی بدلنا پڑے گا، عوام بڑی جدوجہد کی تیاری کریں۔

