پاکستان کی مشہور منشیات فروش ماڈل انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے بعد کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ڈی آئی جی سائوتھ ، ڈی آئی جی سی آئی اے ، ایس ایس پی ایس آئی ئو ، ایس ایس پی سٹی اور انویسٹی گیشن کو طلب کیا ، سائوتھ پولیس سے سوال پوچھا “یہ کیا تماشا لگایا ہوا ہے” مقدمہ درج کیا اور فوری طور پر عدالت میں پیش کردیا ، اتنی جلدی کس بات کی ہے ، سائوتھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے ملبہ ایس ایچ او گارڈن پر ڈال دیا۔ آزاد خان نے ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا کو حکم دیا ایس ایچ او فون کریں اور اسپیکر آن کردیں ، ڈی آئی جی نے ایس ایچ او سے سوال کیا آپ کو کس نے کہا تھا “پنکی” کو عدالت میں پیش کریں تو ایس ایچ او نے فرمایا “افسران بالا کا حکم تھا” ۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی تو کراچی پولیس چیف نے افسران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا افسران بالا کون آئی جی سندھ ، میں یا ڈی آئی جی سائوتھ ۔ میٹنگ ختم ہوگئی مگر نامی گرامی منشیات فروش کو جلد بازی میں پیش کرنے والے اعلیٰ افسر کا معلوم نہ ہوسکا ۔



پاکستان کی نامی گرامی منشیات فروش کا پروٹوکول بتاتا ہے دال میں کچھ کالا نہیں دال کالی ہے ، وفاقی حساس ادارے نے پکڑا تین بجے سائوتھ زون پولیس کے حوالے کیا ، سات بجے مقدمات درج کیے اور گیارہ بجے عدالت میں پیش کردیا ، ایس ایچ او گارڈن سیال پروٹوکول دیتا رہا اور تفتیشی افسران کو کہتا رہا افسران بالا کا حکم ہے ۔ وہ افسران بالا چادر اوڑھ کر چھپ گئے ہیں جو اب تک منظر عام پر نہیں آئے ۔ منشیات فروش ملزمہ پنکی کو دھوپ سے بچائو کیلئے کالا چشمہ دیا گیا ، ٹی شرٹ اور ٹرائوزر دیا گیا ، میڈم نے ماسک لگایا اور عدالت پہنچ گئیں ، تفتیشی افسران کیس سے لاعلم اور ایس ایچ او سب جانتے ہوئے بھی خاموش ، جس کی ابتدائی انکوائری رپورٹ پڑھ لیں تو شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا ، خیر پھر “پنکی” کو عدالت لے جانے کیلئے نئی بھرتی خاتون پولیس اہلکار دی گئی جس بیچاری کو کچھ معلوم نہیں اب وہ نئی بھرتی بھی معطل ہے ۔ سارا قصور ایس ایچ او گارڈن ، انویسٹی گیشن افسران کا ہے تو پھر کراچی پولیس چیف ، ڈی آئی جی ، ایس ایس پی آپریشن و انویسٹی گیشن کا کیا کام ہے ۔
وفاقی حساس ادارے کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی تو تہلکہ مچ جائے گا ، اس رپورٹ میں سیاستدان ، ٹی وی اداکار و ماڈل ، بیوروکریٹس کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں شامل ہیں ۔ فی الحال چار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے جس میں بہت سے چہروں کو چھپا کر رکھا گیا ہے ۔ ایم پی اے فریال تالپور اور وزیرداخلہ ضیاء الحسن لنجار منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون میں سنجیدہ ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بچانا چاہتے ہیں تو سائوتھ سٹی اسپتال اور ضیاء الدین اسپتال کا دو سال کا ریکارڈ حاصل کریں اور دیکھیں منشیات کی زیادتی یعنی “اوور ڈوز” سے کتنے بچے دنیا سے چلے گئے شاید آسانی ہوجائے اگر ایسا ممکن نہیں تو ستمبر 2022 کا کیس نکالیں جس میں
برطانوی خفیہ ایجنسی کی نشاندہی پر ڈیفنس کراچی سے 50 کروڑ کی گاڑی برآمد کی گئی تھی اس کیس کا ریکارڈ حاصل کریں تو “نویدا یامین” کہیں نظر آئے گا کڑیاں ملاتے چلے جائیں تانے بانے آپ کو حیران و پریشان کردیں گے ۔ آپ کو معلوم ہوگا منشیات پاکستان کیسے پہنچتی ہے اور کون کون اس میں ملوث ہے۔(نوٹ: منشیات فروش ماڈل پنکی سے معذرت چاہتا ہوں ، ٹانگوں کے بیچ سے سوچ کر تحریر لکھی ہے

