کراچی کے علاقے گارڈن رنچھوڑلائن کی رہائشی ہے ۔اس کا آبائی تعلق پنجاب کے شہر قصور سے ہے،جب کہ اس کی پیدائش کراچی میں ہوئی ، ملزمہ پہلی بار 10سے 12سال قبل درخشاں کے علاقے سے گرفتارہوئی تھی ، انمول عرف پنکی تقریباً 13 سال قبل منشیات سے جڑے ایک نیٹ ورک کا حصہ بنی، شادی کے بعد باقاعدہ منشیات کے بڑے دھندے سے منسلک ہوگئی۔ پنکی ابتدائی طور پر آئس پوش علاقوں میں فروخت کرتی رہی، تاہم بعد میں کوکین کے کاروبار میں 

داخل ہوگئی۔ وہ پوش علاقوں میں امیر زادوں کی ہونے والی ٖڈانس پارٹیوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کو نشہ فراہم کرتی تھی ، جب اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں نے اس نیٹ ورک کی چھان بین شروع کی تو ان لوگوں نے کراچی سے فرار ہوکر لاہور اور کبھی اسلام آباد میں ٹھکانے بنا لئے۔لاہور اور اسلام آباد کے پرتعیش گھروں میں پنکی کے ٹھکانے رہے ہیں۔انمول عرف پنکی خود کو قانون کی گرفت سے بچانے کیلئے ہر ممکن احتیاط برتتی تھی،اس لئے اس نے گاڑیاں،مکان اور کسی قسم کا کوئی بینک اکاؤنٹس بھی اپنے نام یا شناختی کارڈ سے نہیں بنایا۔یہاں تک کہ اس نے بائیو میٹرک شناخت سے بچنے کیلئے تیزاب سے اپنی انگلیاں جلائیں ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کو نام اور عرفیت سے ضرور جانتے تھے مگر شکل کسی کی نظر سے نہ گذری تھی۔میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی نے لاہور میں کرائےکا ایک مکان لے رکھا تھا اس ہی مکان میں مبینہ طور پر ایک خاص قسم کی لیبارٹری بنائی ہوئی تھی جس میں کوکین کو زیادہ شدت والا مال بنانے کیلئے ایک پلانٹ بھی لگایا ہوا تھا ۔پنکی کو منشیات کی دنیا میں ایک برانڈ سمجھا جاتا تھا
کیونکہ اس نے اپنے نام سے منسوب برانڈ کے ساتھ کوکین کی پیکنگ بھی متعارف کرا رکھی تھی ، پولیس حکام کے مطابق ملزمہ اسکا گروہ کوکین میں استعمال ہونے والے کیمیکل کیٹامائن اور ایسیٹون ،ادویات کی ہول سیل مارکیٹ سے خریدتا تھا عام طور پر نشے کے عادی افراد کوکین کسی اور منشیات فروش سے 10 سے 12 ہزار روپے فی گرام میں خریدتے تھے جبکہ پنکی کی تیار کردہ کوکین 20 سے 25 ہزار روپے فی گرام اور “گولڈ” نامی برانڈ 40 ہزار روپے فی گرام تک ملتی تھی ۔انمول عرف پنکی منشیات کے بزنس میں مہارت رکھتی تھی اس نے آن لائن منشیات کیلئے ایک الگ نیٹ ورک بنایا ہوا تھا ،منشیات کی ترسیل کیلئے مرد رائیڈرز کے علاوہ چند کم عمر لڑکیوں کو استعمال کیا جاتا تھا جبکہ پورا نیٹ ورک خود ہی کنٹرول کرتی رہی۔ ملزمہ سےتفتیش جاری ہے جس کے بعد حیرت انگیز انکشافات متوقع ہیں.

