انور مقصود،معین اختر،عمرشریف،حنیف راجہ جو آپ کو زیر نظرایک انٹری کوپن پر نظرآرہے ہیں مذکورہ خستہ حال کوپن آج کسی نے مجھے بطور یادگاری تحفہ ارسال کیا تو یادوں کا ایک خوشگوار معطر جھونکا روح کو تازہ کرگیا ایسا لگا جیسے اس شو کی میزبانی میں نے ابھی کل رات ہی کی ہو۔یہ کاپوریٹ شو 16 نومبر 2008 کو ڈی ایچ اے گولف کلب کراچی میں منعقد ہوا تھااورایک پیٹرولیم کمپنی کا نجی شو تھا میں(حنیف راجہ)بمعہ اسٹینڈاپ کامیڈی کے شو کا
میزبان تھا۔انور بھائی (انور مقصود)اور معین بھائی (معین اختر) کالوز ٹاک کا خاکہ تھا۔عمر بھائی (عمرشریف) کی اسٹینڈاپ کامیڈی تھی۔انور بھائی اور معین بھائی کا لوز ٹاک کا وہ خاکہ تھا جسمیں معین بھائی ایک فنی شرابی بنتے تھے۔معین بھائی نے اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے کہا ” بات سن حنیف، جب تو مجھے اناؤنس کریگا تو میری اناؤنسمنٹ کے بعد وہاں دیکھنا جہاں سےسب آرٹسٹ اسٹج پر آرہے ہیں لیکن میں آؤں گا آڈینس کے درمیان سے”۔میں نے معین بھائی کی اناؤنسمنٹ کی اور وہ شراببیوں کے انداز میں آڈینس کے بیچ میں سے لڑکھڑاتے جھومتے جھامتے برآمد ۂوۓ،لوگ حیران تھے کہ یہ معین اختر کو کیا ہوگیا ہے ہال میں سناٹا چھاگیا۔پھرجب انور بھائی نے خاکہ شروع کیا تب
لوگوں کو سمجھ آیا کہ یہ سب خاکے کا حصہ تھا۔مذگورہ شو کی انفرادیت یہ تھی کہ نہ اسمیں کوئی گلوکار تھا نہ میوزک تھا نہ کوئی اور سپورٹنگ انٹری صرف چار فنکاروں پر مبنی یہ شو ساڑھے تین گھنٹے نان اسٹاپ قہقہوں کے ساتھ جاری رہا۔شو کے آخر میں جب میں خدا حافظ کرنے اسٹیج پر آیا تب بھی آڈینس جانے کے موڈ میں نہیں تھی جس پر میں نے ازراہ مذاق کہا آپ لوگ ایسے نہیں جائیں گے،پولیس بلوانی پژیگی جس پر قہقہہ بلند ہوا اورشو اختتام پذیر ہوا۔
اللہ معین بھائی اور عمر بھائی کی کامل بخشش فرماۓ اور انور بھائی کو صحت مند زندگی دے ۔آمین ” سفر جاری ہے” کے عنوان سے اس سلسلے کے مزید بلاگ Blogs لیکر جلد حاضر ہوں گا۔

