اسلام آباد۔(مطیع الرحمٰن):آج سے ٹھیک ایک سال قبل مئی 2025 میں جنوبی ایشیا کے افق پر حق و باطل کی ایک ایسی لکیر کھینچی گئی جس نے نہ صرف عسکری تاریخ بدل دی بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بلند اخلاقیات اور اصولوں سے جیتی جاتی ہیں، مئی 2025 کا ”معرکہ حق“ محض ایک فوجی کامیابی نہیں تھی بلکہ یہ اسلامی جنگی ضابطوں کی عملی تفسیر اور شہری آبادیوں کے تحفظ کی وہ عظیم مثال تھی جس نے بھارتی جارحیت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔اس معرکے کی جڑیں اس وقت مضبوط ہوئیں جب پاکستان نے ”آپریشن بنیان مرصوص“ کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں بدل دیا، یہ آپریشن دراصل دشمن کی اس "کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن” کا مؤثر جواب تھا جس کا مقصد سرحد پار اچانک جارحیت کرنا تھا جہاں بھارت نے اپنی شکست کی بوکھلاہٹ میں لائن آف کنٹرول اور سرحدی دیہاتوں کی شہری آبادیوں کو بھاری آرٹلری سے نشانہ بنایا وہیں
پاکستان نے ’رسپانس ود ریسپانسبلٹی‘ (ذمہ دارانہ جواب) کی پالیسی اپنائی اور اپنی طاقت کو اسلامی حدود کا پابند رکھا۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام واحد دین ہے جس نے جنگ کی تباہ کاریوں میں بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا۔ ”معرکہ حق“ کے دوران پاکستان کا ردعمل ان اسلامی تعلیمات کا عکس تھا جن کے تحت غیر جنگجو افراد، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو تحفظ دینا لازم ہے۔ قرآن حکیم کا واضح حکم ہے ”اور تم اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو‘‘۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لشکرِ اسلام کو روانہ کرتے وقت دس سنہری اصول عطا فرمائے تھے جن میں بوڑھوں، بچوں، عورتوں کو قتل نہ کرنے اور عبادت گاہوں و فصلوں کو نقصان نہ پہنچانے کی سخت تاکید کی گئی تھی، معرکہ حق میں پاکستان نے انہی اصولوں کو مقدم رکھا۔ بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال گولہ باری کے باوجود پاک فوج نے ”پریسیشن گائیڈڈ ویپنز“ (نشانے پر لگنے والے ہتھیاروں) کا استعمال کیا تاکہ دشمن کے علاقے میں بھی کسی معصوم شہری یا سویلین انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔عسکری ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا محض اخلاقی پستی نہیں بلکہ ”جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 51 کی ‘‘کھلی خلاف ورزی تھی جو جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ کو لازمی قرار دیتا ہے۔مئی 2025 میں بھارتی قیادت نے طاقت کے زعم میں انسانی اقدار کو پامال کیا لیکن پاکستان نے ثابت کیا کہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے وہ ”کم از کم دفاعی مزاحمت“ کے اصول پر قائم رہتے ہوئے بھی دشمن کو عبرتناک سبق دے سکتا ہے،آج جب ہم اس فتح کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں تو یہ موقع اس عہد کی تجدید کا ہے کہ ہم انسانیت کے محافظ ہیں۔ اس معرکے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کا موقف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قانون کے عین مطابق ہے جو اسے دنیا بھر میں اخلاقی برتری فراہم کرتا ہے۔پاکستانی افواج نے "تزویراتی ضبط و تحمل” کا مظاہرہ کر کے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ اشتعال انگیزی کا جواب پیشہ ورانہ مہارت سے دیا جاتا ہے نہ کہ معصوم شہریوں پر حملوں سے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حق کی فتح نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو نمایاں کیا، یہجنگ دراصل اس بیانیے کی فتح تھی کہ ایک اسلامی ریاست اپنی طاقت کو بھی اخلاقی حدود کے اندر استعمال کرتی ہے، اس معرکے نے ثابت کیا کہ حق کی طاقت ہمیشہ باطل کے جبر پر غالب آتی ہے۔مئی 2025 کا معرکہ حق تاریخ کے اوراق میں اس حقیقت کو رقم کر گیا ہے کہ حق کی جنگ ہمیشہ اصولوں سے لڑی جاتی ہے۔ پاکستان کی یہ فتح رہتی دنیا تک یہ یاد دلاتی رہے گی کہ شہری آبادیوں کا تحفظ اور انسانیت کا احترام ہی دراصل حقیقی کامیابی کا راستہ ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لڑی جانے والی یہ جنگ حق و انصاف کی دائمی علامت ہے۔

