اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی دارالحکومت میں (پی ایم ڈی سی) کے دفتر کے باہر غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (FMGs) کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، جہاں مرد و خواتین ڈاکٹروں کی بڑی تعداد اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہےمظاہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں ڈاکٹرز اپنے جائز حقوق اور پیشہ ورانہ مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں ان کے مطابق ان کا مطالبہ صرف ایک امتحان میں شرکت نہیں بلکہ اپنی برسوں کی محنت، ڈگری اور پیشہ ورانہ شناخت کے اعتراف کا حق ہےاحتجاج میں شریک نوجوان ڈاکٹروں نے پی ایم ڈی سی کی
پالیسیوں کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے قوانین کو ماضی میں تعلیم مکمل کرنے والے گریجویٹس پر لاگو کرنا ناانصافی ہے ان کا مؤقف ہے کہ عدالت، بالخصوص پشاور ہائی کورٹ اس حوالے سے واضح احکامات دے چکی ہے مگر اس کے باوجود انہیں نیشنل رجسٹریشن ایگزام (NRE) میں شرکت سے روکا جا رہا ہے“جسٹس فار فارن میڈیکل گریجویٹس” کے صدر ڈاکٹر رفاقت گجر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کو فوری طور پر عارضی رجسٹریشن (PRMP) جاری کی جائے اور رجسٹریشن پورٹل دوبارہ کھولا جائے تاکہ متاثرہ طلباء 17 جون کو ہونے والے امتحان میں شرکت کر سکیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو امتحان کی تاریخ میں توسیع کی جائے تاکہ کوئی بھی اہل امیدوار اس عمل سے محروم نہ رہےمظاہرین نے پی ایم ڈی سی کے موقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی پالیسیوں نے ہزاروں قابل پاکستانی ڈاکٹروں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہےان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیرون ملک میڈیکل تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کیے اور اب انہیں امتحان میں بیٹھنے سے روکنا نہ صرف ناانصافی بلکہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہےاس موقع پر ڈاکٹر رفاقت گجر نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے کیونکہ یہ جدوجہد صرف انفرادی کیریئر تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے صحت کے نظام کے مستقبل سے بھی جڑی ہوئی ہےاحتجاج میں شریک خواتین ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے بھی اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود ملک کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں، مگر انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیںمظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک پالیسی یا امتحان کا معاملہ نہیں بلکہ ان سینکڑوں خوابوں کی تعبیر کا سوال ہے جن کے لیے والدین نے اپنی جمع پونجی اور آسائشیں قربان کیں ان کے مطابق یہی نوجوان مستقبل کے معالج ہیں جو ملک کے صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیںاحتجاجی ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام ان کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنیں گے اور فوری مثبت اقدامات کرتے ہوئے ان کے خدشات دور کریں گے تاکہ ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

