"میں”
میں نے خود کو
کسی آئینے میں نہیں دیکھا،
آئینے تو ویسے بھی سرکاری تھے،
ان میں صرف وہی چہرے نظر آتے تھے،
جنہیں اجازت تھی۔
میں نے خود کو،
ایک دیوار پر اُگی ہوئی دراڑ میں پہچانا،
جہاں سیمنٹ کی سختی کے باوجود
ایک باریک سی سبز لکیر،
زندہ رہنے کی ضد کر رہی تھی۔
میرا نام
کسی فہرست میں درج نہیں۔
میں اُن لوگوں میں سے ہوں
جنہیں گنا نہیں جاتا،
صرف برداشت کیا جاتا ہے،
یا پھر مٹا دیا جاتا ہے۔
شہر میرے اندر بستا ہے،
مگر یہ وہ شہر نہیں،
جو نقشوں میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ وہ شہر ہے،
جہاں سڑکیں رات کے بعد،
اپنا راستہ بدل لیتی ہیں،
اور دیواروں پر لکھے نعرے،
صبح ہونے سے پہلے،
خود ہی مٹ جاتے ہیں۔
میں نے لفظوں کو،
حراست میں جاتے دیکھا ہے۔
انہیں زنجیروں میں باندھ کر،
معنی چھین لیے گئے،
اور پھر انہیں،
تقریروں کے اسٹیج پر سجا دیا گیا،
جیسے وہ زندہ ہوں۔
میرے اندر ایک چیخ ہے
جو باہر نہیں آتی،
کیونکہ یہاں،
آواز کو پہلے،
شناختی کارڈ دکھانا پڑتا ہے۔
میں نے اپنے جسم پر،
بہت سے نقش دیکھے ہیں،
یہ زخم نہیں،
یہ تاریخ کے دستخط ہیں،
جو ہر دور میں،
نئے ناموں سے دہرائے جاتے ہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں،
کیا خاموشی بھی جرم ہے؟؟؟
کیونکہ میں نے دیکھا ہے،
کہ یہاں،
چپ رہنے والوں کو بھی،
ایک دن بولنا پڑتا ہے۔۔
اپنے ہی خلاف،
میں کوئی ہیروئن نہیں،
نہ کوئی اعلان ہوں،
میں صرف ایک دراڑ ہوں،
جو ہر دیوار میں آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے،
بغیر شور کے،
بغیر اجازت کے۔
اور تم،
اگر کبھی اس شہر سے گزرو،
تو میری تلاش میں مت نکلنا۔
میں کسی چہرے میں نہیں ملوں گی،
نہ کسی نام میں،
میں تمہیں،
کسی بند دروازے کے پیچھے،
ایک ہلکی سی دستک کی صورت میں ملوں گی،
جو سنائی تو دے گی،
مگر ثابت نہیں کی جا سکے گی۔
میں،
وہی نامعلوم سا وجود ہوں،
جو ہر بار دبایا جاتا ہے،
اور ہر بار
کسی نئی دراڑ سے
پھر اُگ آتا ہے۔۔۔۔۔۔
فرح ناز راجہ

