کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی) ڈاکٹر بننے کیلئے بیرون ملک جانے کے شوق نے حوالات پہنچا دیا میڈیکل کی طالبہ نے اپنے ہی چار سالہ بھانجے کو اغوا کر کے فرانس کے نمبر سے 60ہزار ڈالر تاوان طلب کر لئے۔سیر یس کرائم انوسٹی گیشن ونگ نے مشرقی بائی پاس پر 15روز قبل اغوا ہونے والے چار سالہ بچے کو بازیاب کراکر اغوا کار خالہ کو گرفتار کر لیا ۔مغوی کے والد نے بچے کو بازیاب کرنے والی ٹیم کیلئے نقد انعام کا اعلان کیا ہے سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ ذرائع کے مطابق 15اپریل کومشرقی بائی پاس کے رہائشی محب اللہ نے تھانہ خالق شہید میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ اس کا
چار اسالہ بیٹا مزمل احمد جو گھر کے باہر کھیل رہا تھا کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا پولیس نے مقدمہ درج کر کے کیس سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ منتقل کیا جس پر ایس ایس پی اصغر عثمان ملک نے بچے کی بازیابی کیلئے ایس پی سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ علی رضا اور ایس پی عبدالستار اچکزئی کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اغوا کاروں کے ٹھکانے کا سراغ لگاکر جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب مشرقی بائی پاس پر واقعہ نجی ہائوسنگ اسکیم کے ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک کمرے کے بیڈ کے نیچے سے مغوی بچے مزمل احمد کو بازیاب کراکر اغوا میں ملوث ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا ۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمہ مزلفہ نے انکشاف کیا کہ وہ میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہے اورڈاکٹر بننے کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی لیکن اس کے والدین اس کی تعلیم کیلئے مالی معاونت نہیں کر رہے تھے ڈاکٹر بننے کا مقصد حاصل کرنے کیلئے میں نے اپنی کزن کے چار سالہ بیٹے مزمل احمد کو اغوا کر کے تائوان طلب کرنے کا منصوبہ بنایا 15اپریل کو مزمل گھر کے قریب موجود تھا اسے مٹھائی کا لالچ دے کر ساتھ لے کر اپنے گھر آ گئی اور اپنے الگ کمرے میں رکھا بچے کی موجودگی کے بارے میں میرے گھر کے کسی بھی فرد کو معلوم نہیں تھا
