لاہور۔( نمائندہ خصوصی):صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمی بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلی مریم نواز کے ویژن کے مطابق پنجاب کی فلم انڈسٹری کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے،طویل عرصے سے زوال کا شکار فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 2 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے اہم منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے اعلان کیا کہ لاہور میں عالمی معیار (Universal Standard) کی ”لاہور فلم سٹی” پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جہاں اسٹیٹ آف دی آرٹ لیبز قائم کی جائیں گی، اب فلم سازوں کو ایڈیٹنگ یا پوسٹ پروڈکشن کے لیے
بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں ہوگی،کڑی اسکروٹنی کے بعد فلم سازی کے لیے32 افراد کا انتخاب کیا گیا ہے، جنہیں فی فلم 3 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، اسکرپٹ جمع کروانے کے ابتدائی مرحلے میں ہی ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کر دیے جائیں گے جبکہ بقیہ رقم فلم کی تکمیل پر ملے گی، منتخب فلم سازوں کو اپنی فلمیں مکمل کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جو بھی فلم باکس آفس پر جتنا بزنس کرے گی، اس کا 25 فیصد اضافی طور پر فلم ساز کو دیا جائے گا،جون میں شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے نئے فلم میکرز سے درخواستیں طلب کی جائیں گی، مزید برآں پانچ انتہائی باصلاحیت نوجوانوں کو فلمی منصوبوں کے لیے خصوصی فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سینما گھروں کے بجلی کے اخراجات میں کمی لانے اور انہیں ریلیف دینے کے لیے سینمائوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔عظمی بخاری نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد پنجاب میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور مقامی فلم انڈسٹری کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے، حکومت پنجاب فلمی صنعت سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود اور اس شعبے کی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

