لندن واشنگٹن تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک بی بی سی اردو ڈاٹ کام)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔اس ملاقات میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔ اپنے اعلان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات ’انتہائی کامیاب‘ رہی۔انھوں نے لکھا ’امریکہ لبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اسے حزب اللہ سے تحفظ حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔‘ٹرمپ نے کہا کہ اس ’نہایت تاریخی ملاقات‘ میں شریک ہونا ان کے لیے ’بڑے اعزاز‘ کی بات ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد وائٹ ہاؤس میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ اس ملاقات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو گی۔وائٹ ہاؤس متعدد مرتبہ کہہ چکا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کسی بھی جنگ
بندی کو ایران کے تنازع سے الگ سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ لبنان کو کسی بھی مذاکراتی عمل کا ایک اہم حصہ تصور کرتا ہے۔ملاقات کو آخری وقت میں وائٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو خاص اہمیت دی ہے۔ اس سے قبل صدر کی موجودگی، حتیٰ کہ مختصر طور پر بھی، متوقع نہیں تھی۔ٹرمپ پہلے ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو اپنی نظر میں ختم کی گئی 10ویں جنگ قرار دے چکے ہیں۔ تاہم اس دعوے پر وسیع پیمانے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس ملاقات کا کیا نتیجہ نکلے گا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ حزب اللہ اس ملاقات پر ناراضی کا اظہار کر چکی ہے اور اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قابض ہے۔تاہم درست سمت میں اٹھایا جانے والا کوئی بھی مثبت قدم اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک کامیابی کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان رکھتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ایران کے ساتھ اس کے آئندہ مذاکرات کب ہوں گے یا جنگ بندی کب تک برقرار رہے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے کیونکہ امریکہ اپنے فوجی اہداف روایتی ہتھیاروں سے حاصل کر چکا ہے۔جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ ایران میں جوہری ہتھیار استعمال کریں گے تو ٹرمپ نے کہا ’مجھے اس کی ضرورت ہی کیوں پڑے گی؟‘۔ انھوں نے اس سوال کو ’احمقانہ‘ قرار دیا۔انھوں نے مزید کہا ’میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں جب ہم نے روایتی طریقے سے، اس (جوہری ہتھیاروں کے) کے بغیر ہی، انھیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے؟‘صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’جوہری ہتھیار کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘اس کے بعد صدر نے دیگر موضوعات پر بھی کئی سوالات کے جواب دیے جس کے بعد صحافیوں کو اوول آفس سے باہر جانے کو کہا گیا۔وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ کی مدت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں
نےایرانی نظام اور اب تک کے تنازع سے متعلق اپنے پہلے سے دہرائے جانے والے نکات ہی دوبارہ بیان کیے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ’کوئی جلدی نہیں‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے 75 فیصد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے تاہم جنگ بندی کی وجہ سے کارروائی روک دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی 100 فیصد موثر رہا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے امریکہ ایران کو اس کے اندرونی ’انتشار‘ کو سلجھانے کے لیے اضافی وقت دے رہا ہے۔ ان کے مطابق وہ تنازعے کے خاتمے کے لیے کسی دباؤ میں نہیں اور ایران کے ساتھ ’بہترین معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کنٹرول کرتا ہے اور جب ایران معاہدہ کرے گا تو یہ اہم تجارتی گزرگاہ کھول دی جائے گی۔ صدر نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جنگ بندی کے دوران ایران تیل کی فروخت سے سینکڑوں ملین ڈالر کمائے۔ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمت بڑھے گی۔صدر نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا ’اور آپ جانتے ہیں کہ بدلے میں انھیں کیا ملتا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ انھیں اس کے بدلے کیا ملتا ہے؟ ایک ایسا ایران جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں اور جو ہمارے کسی شہر کو یا پورے مشرقِ وسطیٰ کو اڑانے کی کوشش نہ کرے۔‘اس کے بعد انھوں نے گفتگو کا رُخ سٹاک مارکیٹ کی طرف موڑ دیا اور پھر دوبارہ تیل کی قیمتوں پر آ گئے۔ان کا کہنا تھا ’میں نے سوچا تھا کہ تیل شاید 200 ڈالر فی بیرل تک چلا جائے گا اور تیل کی قیمت کسی بھی اندازے سے بالکل مختلف رہی ہے۔ درحقیقت اس ملک میں قیمتیں کہیں کم ہیں کیونکہ ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ تیل موجود ہے۔‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب دنیا بھر سے جہاز تیل حاصل کرنے کے لیے امریکہ آ رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ’بے چین‘ ہیں۔انھوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’میرے پاس دنیا جہاں کا وقت ہے لیکن ایران کے پاس نہیں۔ وقت کم ہے۔‘انھوں نے کہا کہ معاہدہ اسی صورت ہو گا اگر یہ امریکہ، اس کے اتحادیوں اور پوری دنیا کے لیے ’اچھا‘ اور ’مناسب‘ ہو گا۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام کی طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ’طیارہ شکن فائرنگ‘ کی اطلاعات تہران کے مغربی اور مشرقی دونوں حصوں سے موصول ہوئی ہیں۔پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی مہر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تہران کے بعض علاقوں میں دشمن اہداف کے مقابلے کے لیے فضائی دفاعی نظام کی آوازیں سنی گئیں۔‘بی بی سی نے بھی تہران میں موجود افراد سے بات کی ہے جنھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایسی آوازیں سنیں جنھیں وہ فضائی دفاعی نظام سے منسوب کرتے ہیں۔فی الحال صورتحال واضح نہیں ہے۔ تاہم جیسے ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی ہم آگاہ کریں گے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت سخت گیروں اور اعتدال پسندوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ متحد ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اس سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت دھڑوں کی اندرونی کشمکش کا شکار ہے۔اس سے پہلے ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران کو یہ طے کرنے میں ’بہت مشکل پیش آ رہی ہے کہ اس کا لیڈر کون ہے۔‘ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ بس جانتے ہی نہیں‘ اور دعویٰ کیا کہ ملک میں ’انتہائی پاگل پن‘ پر مبنی اندرونی لڑائی جاری ہے جس میں ’سخت گیر‘ اور ’اعتدال پسند‘ دھڑے آمنے سامنے ہیں۔پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف کہتے ہیں کہ ایران میں ’نہ کوئی انتہا پسند ہیں اور نہ ہی اعتدال پسند۔‘بیان میں کہا گیا ہے ’ہم سب ’ایرانی‘ اور ’انقلابی‘ ہیں، قوم و حکومت کی فولادی یکجہتی کے ساتھ اور رہبر اعلیٰ کی مکمل اطاعت کے ساتھ۔‘بیان کے مطابق ’ہم جارحیت کرنے والے مجرم کو اس کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔‘
