اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی بی بی سی اردو ڈاٹ کام انٹرنیشنل ڈیسک)ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے حوالے سے ’ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گا۔‘عراقچی کا کہنا تھا کہ ’اشتعال انگیز اقدامات اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں‘ سفارتی عمل کے تسلسل میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف ’دھمکیاں اور مداخلت‘ اور ایران کے بارے میں ’متضاد بیانات اور دھمکی آمیز زبان‘ بھی سفارتی عمل میں حائل
رکاوٹیں ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بارے میں بیان جاری کیا گیا تھا۔بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے تمام زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے جلد از جلد مسلسل رابطے اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘دوسری جانب پیر کے روز روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو میں عراقچی نے کہا کہ ایران ’امریکہ کے اقدامات پر نظر رکھے گا اور اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب فیصلہ کرے گا۔‘دونوں بیانات میں عراقچی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران شرکت کرے گا یا
نہیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’صورتحال بہت اچھی جاری‘ رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ’بڑے مارجن سے جیت رہے ہیں، امریکی فوج ’شاندار کارکردگی‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی جنگ سے متعلق رپورٹنگ پر کڑی تنقید کی اور اس حوالے سے انھوں نے خاص طور پر نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جرنل کا نام لیا۔انھوں نے لکھا کہ ’اگر کوئی امریکی میڈیا کی رپورٹنگ پر انحصار کرے تو اسے یوں محسوس ہوگا جیسے امریکہ جنگ ہار رہا ہو۔ ایران بھی انھی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے ’کنفیوژن‘ کا شکار ہے۔‘انھوں نے امریکی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ’ایران کی جیت کی خواہش رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔‘اپنی پوسٹ میں انھوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایران کو
’بالکل تباہ کر رہی ہے‘ اور اسے اس وقت تک نہیں ہٹایا جائے گا جب تک کوئی ’معاہدہ‘ نہیں ہو جاتا۔بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق ایران کے حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ ’ایران 500 ملین ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے جو قلیل مدت کے لیے بھی ایک ناقابلِ برداشت نقصان ہے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’نسبتاً جلدی‘ طے پا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ وہ کسی قسم کے ’دباؤ‘ میں آ کر معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔وہ کہتے ہیں ’یہ ہرگز درست نہیں۔‘صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ایک پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ تشکیل دے رہا ہے جو سابق امریکی صدور کے دور میں ہونے والے معاہدوں سے ’کہیں بہتر‘ ہوگا۔ٹرمپ نے خاص طور پر 2015 کے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کا حوالہ دیا جو ایران اور امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’ملکی سلامتی سے متعلق بدترین معاہدوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا یقینی راستہ‘ تھا ۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہ پہلے ہوا اور نہ کبھی ہونے دیا جائے گا۔‘یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر وہ اس معاہدے
کو ختم نہ کرتے تو جوہری ہتھیار اسرائیل پر اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں استعمال ہو چکے ہوتے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان میں ایک اہم نکتہ ان کے ’اب تک‘ کے الفاظ ہیں۔اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ’اب تک‘ ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘یہ جملہ اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ تہران آخری لمحے میں پڑوسی ملک پاکستان جانے کا فیصلہ کر لے! اور یوں بھی دونوں ملکوں کے درمیان فاصلہ بھی زیادہ نہیں۔لیکن اس واقعے نے ایران کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے تازہ واقعے سے پہلے ہی ایرانی میڈیا یہ رپورٹ کر رہا تھا کہ جب تک امریکی بحریہ کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری ہے، اسلام آباد جانے کا امکان نہیں۔یاد رہے ایران امریکہ بحران کے دوران گزشتہ روز پہلی بار امریکی بحریہ نے ایک ایرانی جہاز پر چڑھائی کر کے اسے قبضے میں لے لیا ہے۔امریکی کارروائی کو ایران بحری قزاقی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ آئندہ اعلیٰ سطحی اور نہایت اہم مذاکرات کے ایجنڈے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔صدر ٹرمپ تیز رفتار فیصلوں اور مطالبات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کے خواہاں رہتے ہیں
جبکہ ایران ہمیشہ طویل المدتی حکمتِ عملی اور لین دین کے ذریعے سفارت کاری کرتا آیا ہے۔دونوں فریق کسی درمیانی راستے پر متفق ہو پائیں گے یا نہیں اور کیا وہ مشکل سمجھوتوں کے لیے تیار ہیں، اس بارے میں ابھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق کافی دیر سے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے متضاد خبریں آ رہی تھیں کہ آیا امریکی وفد روانہ ہو گیا ہے یا نہیں۔اس حوالے سے باخبر ایک ذریعے نے ابھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ وفد کچھ دیر میں روانہ ہو جائے گا۔ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ وہ کب تک اسلام آباد پہنچیں گے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی نیو یارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرد کشنر پر مشتمل امریکی وفد ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔انھوں نے فاکس نیوز کو بھی بتایا تھا کہ آج رات معاہدہ ہو جائے گا تاہم یہ ناممکن لگ رہا ہے کیونکہ اسلام آباد کا فاصلہ بہت ہے اور طیارے کو راستے میں ری فیولنگ کے لیے بھی رکنا پڑتا ہے۔

