اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اسے فیلڈ مارشل عاصم منیر جیسی مضبوط قیادت میسر ہے اور ملک عالمی امور میں ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے اقوام کے درمیان امن کا پل بن کر ابھر رہا ہے۔ اتوار کے روز ایک مقامی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد پاکستان کی عالمی پہچان اور سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ ملک کے لیے باعثِ فخر ہے کہ اس کی قیادت ایک بہادر رہنما جیسے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی حکمت عملی اور پالیسیوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے
قومی استحکام مضبوط ہوا ہے اور پاکستان کا عالمی تشخص بہتر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مربوط قیادت نے عالمی چیلنجز کے باوجود ملک کو مثبت سمت میں گامزن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے اور وہ اقوام کے درمیان اقوام متحدہ جیسے ثالثی کردار کے ذریعے امن، مکالمے اور تعاون کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر تعمیری اور موثر قرار دیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو عالمی سطح پر متوازن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور چین، امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، یہ منفرد سفارتی حیثیت پاکستان کی ساکھ اور عالمی اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے اور دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔انہوں نے اس کامیابی کو قومی فخر اور اللہ کی نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اقوام کا اعتماد ایک بڑا اعزاز ہے جس پر پوری قوم کو شکر گزار ہونا چاہیے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے لیے بڑا اعزاز ہوگا اور اس طرح کا بیان مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی نے کہا کہ اسی دوران بھارت اور اسرائیل کو مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں ممالک کو مختلف محاذوں پر مشکلات پیش آئیں جس کا ان کی عالمی حیثیت پر منفی اثر پڑا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے جو موثر رابطہ کاری اور فیلڈ کوششوں کا مظہر ہے، بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین اور کمیونٹیز سے اپیل کی کہ وہ مہم کے باقی مراحل میں بھرپور تعاون کریں اور اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی ذمہ داری اور مسلسل شرکت ہی پولیو سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت بنا سکتی ہے۔
