• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

دہشتگردی کا افغان نیٹ ورک سے تعلق ، شوہر نے مجھے نوکنڈی خود کش حملے میں استعمال کیا ۔رحیمہ بی بی

ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات اور معاون خصوصی داخلہ بابر یوسف زئی نے کہاہے کہ فتنہ الہندوستان کے کارندوں نے بلوچ روایات کوروندتے ہوئے گھریلو خواتین کو دہشتگردی کیلئے استعمال کیاہے ،دہشتگرد منظور احمد بلوچ خواتین کو خودکش کیلئے افغانستان لے جاکر تیار کرتا ہے اورپھر بلوچستان میں ان خواتین کودہشتگردی کیلئے استعمال کیاجاتاہے ،بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جہاں سے عناصر دراندازی کر کے کارروائیاں کرتے اور دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ شدت پسند نیٹ ورکس خواتین اور بچوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 18, 2026
in پاکستان
0
دہشتگردی کا افغان نیٹ ورک سے تعلق ، شوہر نے مجھے نوکنڈی خود کش حملے میں استعمال کیا ۔رحیمہ بی بی
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کوئٹہ۔ ( نمائندہ خصوصی):ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات اور معاون خصوصی داخلہ بابر یوسف زئی نے کہاہے کہ فتنہ الہندوستان کے کارندوں نے بلوچ روایات کوروندتے ہوئے گھریلو خواتین کو دہشتگردی کیلئے استعمال کیاہے ،دہشتگرد منظور احمد بلوچ خواتین کو خودکش کیلئے افغانستان لے جاکر تیار کرتا ہے اورپھر بلوچستان میں ان خواتین کودہشتگردی کیلئے استعمال کیاجاتاہے ،بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جہاں سے عناصر دراندازی کر کے کارروائیاں کرتے اور دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ شدت پسند نیٹ ورکس خواتین اور بچوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا کے ہمراہ کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حال ہی میں دالبندین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، رحیمہ بی بی کو حراست میں لیاہے جس کا اعترافی بیان پریس کانفرنس کے دوران جاری کیا گیا۔فتنہ الہندوستان کے سہولت کار دہشتگردمنظور بلوچ کی اہلیہ رحیمہ بی بی نے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ اس کے شوہر نے خودکش بمبار خاتون کو افغانستان منتقل کیا۔گرفتار خاتون رحیمہ بی بی کے اعترافی بیان نے کئی اہم حقائق سے پردہ اٹھا یا ہے، رحیمہ بی بی کے مطابق اس کا تعلق فیصل کالونی دالبندین سے ہے اور اس کی شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔ اس نے بتایا کہ شادی کے کچھ عرصے بعد اس کے شوہر نے اسے ایک موبائل فون دیا جسے وہ استعمال کرتی تھی، تاہم شوہر خود بھی کبھی کبھار اسی فون کو استعمال کرتا تھا، جس پر ابتدا میں اسے شک نہیں ہوا لیکن بعد میں خدشات پیدا ہونے لگے۔خاتون نے انکشاف کیا کہ 11 نومبر 2025 کو اس کا شوہر ایک نامعلوم خاتون کو گھر لے آیا اور اسے مسافر قرار دے کر کچھ وقت کے لیے رہائش دی گئی۔ اگلے روز شوہر اس خاتون کو اپنے ساتھ لے گیا اور دو سے تین دن تک غائب رہا۔ واپسی پر اس نے بتایا کہ خاتون کو افغانستان میں رشتہ داروں کے پاس چھوڑ آیا ہے۔رحیمہ بی بی کے مطابق 30 نومبر کو اس کے شوہر نے اسے ایک تصویر دکھائی اور بتایا کہ یہی وہ خاتون ہے جس نے خودکش حملہ کیا ہے۔ تصویر دیکھ کر وہ حیران رہ گئی کیونکہ وہی خاتون (زرینہ)ان کے گھر میں قیام کر چکی تھی اور اس کا شوہر اس کا موبائل دہشت گردی کے عزائم کیلئے استعمال کرتا رہا، جبکہ ایک خودکش حملہ آور خاتون کو ان کے گھر میں ٹھہرایا گیا اور مکمل سہولت فراہم کی گئی۔

خاتون نے مزید بتایا کہ 3 دسمبر 2025 کو اس کا شوہر افغانستان فرار ہو گیا اور بعد ازاں اس کے بھائی کے ذریعے اسے بھی وہاں بلانے کی کوشش کی گئی، تاہم 8 دسمبر کی رات اسے اور اس کے بھائی کو گرفتار کر لیا گیا۔رحیمہ بی بی نے الزام لگایا کہ گرفتاری کے بعد اس کا شوہر اس سے مکمل لاتعلق ہو گیا اور یہاں تک کہ اپنے ہونے والے بچے کی ذمہ داری لینے سے بھی انکار ی ہو گیا ہے۔ اس کے مطابق شوہر نے پیغامات میں یہاں تک کہا کہ’’میری بیوی کو مار دو، مجھے کوئی پرواہ نہیں ‘‘۔خاتون نے عوام بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیٹیوں کے رشتے طے کرنے سے قبل مکمل جانچ پڑتال کریں اور کسی بھی مشکوک یا کالعدم تنظیم سے وابستہ افراد سے ہرگز رشتہ نہ کریں۔خاتون نے کہا کہ اس کے شوہر نے خودکش حملہ آور خاتون کو افغانستان منتقل کیا جہاں اسے دہشت گردی کیلئے تیار کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور خودکش حملے اسلام میں مکمل طور پر حرام ہیں۔یہ عناصر نہ صرف بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس خطے کی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جہاں کہیں ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے ہیں، یہ عناصر انہیں نشانہ بناتے ہیں یہ عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں مکمل امن قائم ہو ۔ حکام نے کہا کہ اس خاتون کو اس کے شوہرکی جانب سے دھوکہ دیا گیا اوریہ انتہائی دردناک مثال ہے کہ کس طرح ایک پاکیزہ مقدس رشتے کو بھی ان عناصر نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا ۔حکام نے بتایاکہ رحیمہ بی بی کا کیس خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک عورت، جس کا شوہر اس نیٹ ورک میں شامل تھا، ذہنی اذیت، عدم تحفظ اور خطرے کا شکار ہوئی۔ ایک حاملہ خاتون کو اس طرح تنہا چھوڑ دینا اور اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال دینا یہ ان عناصر کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔حکام نے تشویش کااظہار کیاکہ سرحد پار افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جہاں یہ عناصر پناہ لے کر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور مقامی افراد کو بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ایک مسلسل کر اس بارڈر خطرہ ہے جس کا موثر جواب ضروری ہے۔

بلوچ خواتین کو سہولت کاری، پروپیگنڈا اور خود کش حملوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے یہ بلوچ ثقافت، روایات اور خواتین کے احترام کے خلاف ایک کھلی جارحیت ہے اور معاشرتی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔حکام نے بتایاکہ جب ایسے کیسز سامنے آتے ہیں تو یہی دہشت گرد تنظیمیں اپنے استعمال کیے گئے افراد سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہیں یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تا کہ خود کو بچایا جا سکے اور سارا بوجھ متاثرہ فرد پر ڈال دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام میں خودکش حملے مکمل طور پر حرام ہیں یہ نہ جہاد ہے اور نہ قربانی بلکہ ایک سنگین گناہ ہے، جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔جب بھی ریاست ایسے نیٹ ورکس کے خلاف موثر کارروائی کرتی ہے تو بعض نام نہاد انسانی حقوق کے کارکن بلا تحقیق شور و غوغا بپا کر دیتے ہیں، جس سے نہ صرف حقائق مسخ ہوتے ہیں بلکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو تحفظ ملتا ہے۔ مزید بر آں، منظور احمد کی سرگرمیاں محض ایک فرد تک محدود نہیں تھیں بلکہ وہ ایک منظم دہشت گردنیٹ ورک سے منسلک تھا۔ پاکستان میں کسی خود کش حملہ آور کا سہولت کار بنا، اسے سرحد پار افغانستان لے جانا اور وہاں اسے خود کش حملے کی تربیت دلوانا کسی عام فرد کے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک مربوط اور منظم دہشت گردی کے ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کے بر عکس ریاست کا رویہ ہمیشہ متاثرین، خصوصا خواتین کے حوالے سے ہمدردانہ ، ذمہ دارانہ رہا ہے۔ ریاست نہ صرف ان کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ ان کی بحالی اور معاونت کے لیے بھی اقدامات کرتی ہے۔ جبکہ دہشت گرد عناصر خواتین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہر ممکن طریقے سے استعمال کرتے ہیں، اور جب اپنے عزائم میں ناکام رہتے ہیں تو انہی متاثرین سے لا تعلقی اختیار کر کے انہیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں انسانی اقدار کا پاسدار ہے اور کون انہیں صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات دی جاچکی ہیں کہ تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ریاست پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، اور ہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرے یا ہمارے معاشرے کو کمزور کرے۔معاون خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہاکہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور بعد ازاں دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں، جو کہ ایک منظم نیٹ ورک اور کراس بارڈر خطرے کا ثبوت ہے۔شدت پسند عناصر اب اپنے مذموم مقاصد کیلئے خواتین اور معصوم بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جو نہ صرف انسان

یت سوز عمل ہے بلکہ بلوچ روایات کے بھی سراسر منافی ہے۔بابر یوسف زئی نے کہاکہ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ دہشت گرد عناصر کس طرح مقدس انسانی رشتوں کا استحصال کر رہے ہیں اور عام گھروں تک رسائی حاصل کر کے اپنے نیٹ ورکس کو وسعت دے رہے ہیں۔بعض عناصر ریاستی کارروائیوں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر کے حقائق کو مسخ کرتے ہیں، جس سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔انہوں نے عوام، خصوصا والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور شادی جیسے اہم معاملات میں خاندانی پس منظر کی مکمل جانچ پڑتال کریں۔انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور کسی کو بھی خواتین یا بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے یا معاشرے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی۔

پچھلی پوسٹ

پانی کا بحران ،معاہدۂ سندھ طاس کی معطلی سے پاکستان کی آبی شہ رگ خطرے میں

اگلی پوسٹ

پاکستان مذاکرات اور دیرپا امن کیلئے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے ، ایاز صادق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان مذاکرات اور دیرپا امن کیلئے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے ، ایاز صادق

پاکستان مذاکرات اور دیرپا امن کیلئے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے ، ایاز صادق

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper