اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر زو جیا یی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے زو جیا یی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور پاکستان میں اے آئی آئی بی کے مضبوط کردار کو سراہا جس کے تحت اس وقت تقریباً 1.7 ارب ڈالر کے منصوبے جاری ہیں جبکہ مزید 1 ارب ڈالر کے منصوبے زیر غور ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چار سال کے وقفے کے بعد یورو بانڈ کا اجرا کیا گیا، جو نجی سطح پر کیا گیا اور یہ پاکستان کی معاشی بہتری پر اعتماد کا اظہار ہے۔انہوں نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔وفاقی وزیر
خزانہ نے خطے میں جاری صورتحال کےباعث پاکستان کی توانائی سپلائی پر اثرات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ورلڈ بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ 5 سالہ حکمت عملی کا ذکر کیا جن میں آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی اصلاحات کو اہمیت دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے اے آئی آئی بی کو پاکستان کے انفراسٹرکچر منصوبوں میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ بینک کا ملٹی ایئر لینڈنگ پروگرام منصوبوں کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔دونوں فریقین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اے آئی آئی بی کے ساتھ پاکستان میں منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ اس موقع پروفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منصوبوں میں تاخیر دور کرنے کے لیے چار خصوصی کمیٹیاں قائم کی ہیں جو زمین کے حصول، فنڈز کی فراہمی، قواعد و ضوابط اور خریداری کے معاملات کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کرنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
