اسلام آباد۔ ( نمائندہ خصوصی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما انجینئر خرم دستگیر خان نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنگی بحران سے متاثرہ ممالک کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے برادر ممالک کی جانب سے پاکستان کے ثالثی کردار پر اعتماد کرنے پر گہری تشکر کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کی امن کے فروغ کی ساکھ وقار کے ساتھ بحال ہوئی ہے۔ ہفتہ کو ‘پی ٹی وی نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سول قیادت اپنے مؤقف میں متحد ہے اور نائن الیون کے بعد سے قومی وقار کی بحالی کے لیے بہترین سفارتی اور تزویراتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس عزم کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور ترکیہ، سعودی عرب اور چین جیسے ممالک پاکستان کی حمایت میں ثابت قدم رہے ہیں۔انہوں نے امریکہ اور ایران دونوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان پر
ثالثی کے کردار کے لیے اعتماد کیا جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے مختلف ممالک پر معاشی دباؤ کم ہوا ہے بالخصوص بے روزگاری اور ضروری اشیاء کی قلت جیسے مسائل میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کی قیادت کی بدولت عالمی سپلائی چین میں مثبت تبدیلی آئی ہے جس سے یہ بحران مزید شدت اختیار نہیں کر سکا۔ خرم دستگیر خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ استحکام برقرار رکھنے میں پاکستان کے کردار کو ایران، لبنان، ترکی اور دیگر ممالک کے عوام نے سراہا ہے اور انہوں نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی پرچم کا وقار نمایاں طور پر بڑھا ہے کیونکہ ملک کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں پر تسلیم کیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں دستگیر خان نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اصولی معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں اہم پیش رفت کا اشارہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے سیکرٹری نے بھی پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا اور ملک کے قائدانہ کردار کو تسلیم کیا۔ انجینئر خرم دستگیر خان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تیل اور دیگر اہم معاملات پر ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے مزید تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ صدر ٹرمپ کا دورہ جلد متوقع ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور سفارتی برف پگھلنے کی علامت ہوگا جس میں پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے امید ظاہر کی جہاں آنے والے برسوں میں ملک کو مزید ریلیف، خوشحالی اور استحکام حاصل ہوگا۔

