اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر جے پی مورگن کے زیر اہتمام "پاکستان: معاشی و مالیاتی پالیسی کا جائزہ” کے عنوان سے منعقدہ سرمایہ کاری سیمینار میں شرکت کی جہاں انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں سے گفتگو کی، اس موقع پر سٹیٹ بینک کے گورنر بھی شریک تھے۔ ابتدائی کلمات میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف)کے تیسرے جائزے اور
ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف)کے دوسرے جائزے کے لیے سٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے جس کی منظوری جلد متوقع ہے۔سینیٹر اورنگزیب نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی تمام بیرونی مالی ذمہ داریاں بروقت پوری کرے گا، اس حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ مالی معاونت کو اہم قرار دیا۔ وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جو مالی وسائل کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے خطے میں جاری صورتحال کے تناظر میں توانائی کی فراہمی کے انتظام سے متعلق حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی جس میں طلب کے انتظام، مارکیٹ کے مطابق فیصلے اور مکمل قیمتوں کی منتقلی شامل ہے جبکہ کمزور طبقات کے لیے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں۔نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں سرمایہ کاروں نے آئی ایم ایف کی ممکنہ اضافی معاونت، نجکاری پروگرام اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوالات کیے۔

