ایسا کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔ وسیم اکرم، وقاریونس، ثقلین مشتاق، محمد یوسف، سعید انور اور کتنے ہی دوسرے عظیم کھلاڑی ہم نے حالیہ سالوں میں دیکھے ہیں جنہیں اندر باہر کے چکر میں ضائع کر دیا گیا۔ کم از کم ایک دو سال کی کرکٹ ان میں سے ہر ایک میں باقی تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر پریشان کن بات یہ ہے کہ اپنا عروج کھیل کو دینے اور ملک کے لیے بہت سی فتوحات سمیٹنے والوں کے ساتھ اکثر ‘بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے’ والا معاملہ ہو جاتاہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ان فٹ ہو جائے تو اسے بیچ منجدھار میں چھوڑ کر پی سی بی کا کارواں کوچ کر جاتا ہے۔ ثقلین مشتاق اس قدر بڑا آف سپنر تھا کہ انتہائی کم عمری میں دنیا میں تیز ترین اڑھائی سو ون ڈے وکٹیں لینے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیاچکا۔ مسلسل دو سال،سالوں
میں سال میں سب سے زیادہ وکٹیں بھی لیں، اور اس حوالہ سے بھی ریکارڈ قائم کیا۔ میچ کےکا آخری فیصلہ کن اوور کسی سپنر سے کروانے کی روایت بھی اس کی کارکردگی کے سبب ہی ڈلی کہ بیٹسمینوں کو باندھ کر رکھ دیتا تھا۔ محض ستائیس سال کی عمر میں ان فٹ ہوا، اور اس کا مناسب علاج کروانے کے بجائے ہم اسے فراموش کر کے آگے بڑھ گئے۔ کم از کم دس سال کی کرکٹ ہم نے اس سے چھین لی۔
محض چند قدم دوڑ کر بائیں بازو سے بلے بازوں کے پیروں پر ٹھپا کھاتی، ہوئی سوئنگ ہوتی گیند کروانے میں وسیم اکرم دنیائےدنیا کرکٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا، نہ پہلے نہ اپنے بعد۔ اور پھر اچھے دنوں میں ایسے فلک شگاف چھکے لگاتا تھا کہ دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ٹورنامنٹ ہارے تو چھتیس سال کی عمر میں اسے بھی نکال باہر کیا گیا جبکہ ابھی ڈیڑھ دو تین سال کی کرکٹ اس میں بھی باقی تھی۔ اس کو تو کوئی ایسا میچ کھیلنے کا موقع بھی نہیں ملا کہ جسے وہ اپنا آخری میچ قرار دیتے ہوئے باعزت طریقے سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا۔ اُن دنوں ملک میں کسی اور نے یہ معاملہ اٹھایا ہو یا نہیں، کم از کم راقم نے دی نیوز
کے لیے کالم لکھا اور پی سی بی کے کرتا دھرتوں کو گزارش کی کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ اُنان دنوں ہونے والی پاکستان میں ایک سیریز کے کسی میچ کے دوران وسیم اکرم کو اپنا آخری میچ کھیلنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے رخصت ہو سکے۔ صرف یہی نہیں، وسیم اکرم ان دنوں مایوسی کا شکار ہو کر کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے انگلینڈ جا چکےچلے گئے تھے۔ میں نے ان کی مرحومہ زوجہ ہُما اکرم کا کہیں سے نمبر ڈھونڈ کر ان سے بھی بات کی کہ اگر پی سی بی ایسی کوئی پیشکش کرے تو وسیم اکرم سے کہیے گا وہ قبول کر لیں۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وسیم اکرم سے ان کا رابطہ ہو گیا تھا اور وہ آمادہ تھے۔ بھلے وقتوں میںان اچھے دنوں اخبار میں خبر یا کالم چھپنے پر متعلقہ افراد یا ادارے حرکت میں آ جایا کرتے تھے۔ پس پی سی بی نے وسیم اکرم کو بلا کر جنوبی افریقہ کے ساتھ راولپنڈی میں ہونے والے ایک میچ میں کھانے کے وقفے کے دوران خصوصیایک چھوٹی سی تقریب منعقد کروا کر انہیںکروسیم اکرم کو باقاعدہ طور پر رخصت کر دیا۔
اب آتے ہیں بابر اعظم کی طرف جسے ہم اپنی آنکھوںانکھوں کے سامنے ضائع ہوتا دیکھ رہے ہیں اور محض 31 سال کا ہونے کے سبب جس میں ابھی سات آٹھ سال کی کرکٹ باقی ہے۔ بابر صرف ایک اچھا بلے باز ہی نہیں، اس کا شمار موجودہ دور دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں میں کیا جانے لگا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک وہ دنیائے کرکٹ کے بہت سے ریکارڈ اپنے نام کرتا چلا جا رہا تھا۔ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں خاص طور پر اسے یہ اعزاز حاصل ہو چکا تھا کہ وہ سب سے زیادہ رنز، اور وہ بھی ریکارڈ کم میچوں میں بنا چکا تھا۔ کئی سال وہ دنیا کا نمبر ایک بلے باز رہا۔ اور صرف یہی نہیں، اپنی کارکردگی کی بدولت اس نے پاکستان کو بھی دنیا کی نمبر ایک ٹی ٹونٹی ٹیم بنا دیا تھا۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ انہی دنوں ٹی وی چینلوں پر تبصرہ کرنے والے ہمارے چند دوست دور
کی کوڑی لے کر آ گئے کہ ویسے تو سب ٹھیک ہے لیکن سٹرائیک ریٹ کمکھیلتا سست ہے۔ حالانکہ ہو یہ رہا تھا کہ بابر ایک سِرے کو سنبھالتا تھا، رن بھی بناتا تھا، اور موقع ملنے پر شاٹ بھی لگاتا تھا۔ جان لیجیے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ چوکے بھی اسی نے لگا رکھے ہیں۔ اس کی موجودگی میں دوسرے بلے باز حوصلہ پکڑتے اور سکور کر پاتے تھے۔ یاد رہے ہماری ٹیم کے معروضی حالات ہمیشہ سے ایسے رہے ہیں کہ اگر کوئی ایک بڑا بیٹسمین کریز پر رک کر نہ کھیلے تو پوری بیٹنگ لائن فلاپ ہو جاتی ہے۔ ماضی قریب میں یہ کردار جاوید میاں داد ادا کرتے تھے اور آج کے دور میں بابر اعظم۔ بس پھر کیا تھا کہ اندر باہر ہونےکرنے کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ بابر اپنااپنے اعتماد کھو بیٹھا، خود بھی ڈوبا اور ساتھ میں پاکستان بھی۔
ٹی ٹونٹی کے بعد اب ہم نے ون ڈے سے بھی اس کا پتّاپتہ گول کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اندر باہر کا ایسا چکر شروع کیا ہے کہ خاکم بدہن وہ دن دور نہیں جب مسلسل دباؤ کا شکار ہو کر اس کی کارکردگی ایسی متاثر ہو گی کہ اسے آخر کار ون ڈے ٹیم سے بھی سے بھی ٹی ٹونٹی کی طرح باہر ہی کرنا پڑے گا۔ خدا کی شان ہے بابر سے کہیں چھوٹے قد کے کرکٹر اور انتظامیہپی سی بی سے وابستہ افراد اس کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بابر کو اندر باہر یا اس پر تیز کھیلنا مسلط کرنے کے بجائے کوچ کی ذمہ داری لگاتے کہ بتدریج اس کی تکنیک میں تبدیلی لائے۔ یہ آخر اتنے مہنگے کوچ کس مرض کی دوا ہیں۔ اس سے اسے ارتقائی عمل سے بابر کی نہ صرف تکنیک مزید بہتر ہو جاتی بلکہ ہمارا کام بھی پہلے کی طرح اچھا چلتا رہتا۔ بابر اعظم، اب ہم آپ کے لیے محض دعا ہی کر سکتے ہیں!

