لاہور( نمائندہ خصوصی):پی ایس ایل 11 میں نئی فرنچائز حیدرآباد کنگزمین کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے واضح کیا ہے کہ ان کا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تنازع نہیں اور قومی ٹیم کے ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے ان کی علیحدگی خوش اسلوبی سے ہوئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیسن گلیسپی نے کہا کہ ٹیم نے ٹورنامنٹ میں ابھی ابتدائی مرحلہ طے کیا ہے اور ایک مضبوط کمبی نیشن بنانے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کنگزمین کی تیاری تسلی بخش ہے اور
کھلاڑی بھرپور محنت کر رہے ہیں، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سے قبل ٹیم کو مناسب وقت ملا جس میں کھلاڑیوں نے بھرپور تیاری کی اور اسی وجہ سے وہ اسکواڈ کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔جیسن گلیسپی نے پی سی بی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک ہی کیلنڈر میں انٹرنیشنل اور فرنچائز کرکٹ کا انعقاد ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، جسے بہتر انداز میں منظم کیا جا رہا ہے۔ہیڈ کوچ کے مطابق ٹیم اگلے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف بہترین کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنے کی کوشش کرے گی تاکہ فتح حاصل کی جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ آسٹریلوی آل راونڈر گلین میکسویل کی جلد ٹیم میں شمولیت متوقع ہے، تاہم ان کی آمد کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ نوجوان بیٹر صائم ایوب کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی دکھائیں گے۔جیسن گلیسپی نے کہا کہ معاذ صداقت ٹریننگ میں حصہ لے رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اگلے میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جدید کرکٹ میں فاسٹ باولرز کے لیے تینوں فارمیٹس کھیلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اسی لیے کئی کھلاڑی اپنے کیریئر کو طول دینے کے لیے محدود اوورز کی کرکٹ کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ کچھ اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کو اہمیت دیتے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں کھلاڑیوں، کرکٹ بورڈز، کوچز اور فرنچائزز کے درمیان بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
