اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے، دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارت کاری کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کے تاریخی کردار کا تسلسل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن میں پاکستان کاکس کے چیئرمین، کانگریس مین ٹام سوزی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جمعہ کو واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق موجودہ تنازع کے پرامن حل کے حوالے سے سفیر رضوان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملک کا مؤقف واضح طور پر پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔سفیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تمام فریقین کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار
ملک کے لیے باعثِ فخر اور شکرگزاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر دوست ممالک سے مشاورت اور تعاون کے ساتھ مفاہمت کے لیے اپنی سہولت کاری کی کوششیں جاری رکھے گا تاہم مسئلے کے حل کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ تنازع کے حل کے لیے جاری کوششوں سے مثبت نتائج کی امید ہے۔ کانگریس مین ٹام سوزی نے پاکستان کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات کے قیام اور امریکی سرمایہ کاری میں اضافے کی امریکی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس مثبت پیش رفت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، معاشی سرمایہ کاری سیکورٹی بہتر بنانے کا بہترین طریقہ ہے۔ کانگریس مین سوزی نے کہا کہ اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت اور اہمیت کے باعث پاکستان بین الاقوامی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔حالیہ امریکہ۔ ایران تنازعہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں فریقوں کا دوست ہونے کی حیثیت سے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، پاکستانی عوام افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی قیمت اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک ایشیائی ٹائیگر کے طور پر ابھرا تھا تاہم متعدد علاقائی چیلنجز نے اس کی معاشی ترقی اور صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران پاکستانیوں کو امریکی ویزا حاصل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات سے متعلق سوال بھی اٹھایا گیا۔ کانگریس مین ٹام سوزی نے کہا کہ ہم ریپبلکن اراکین کے ساتھ مل کر پاکستانیوں کو امریکی ویزا حاصل کرنے میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے کام کریں گے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر مختلف سیاسی گروہوں کے اتفاق رائے سے انتظامیہ کو خط لکھنے پر غور کریں گے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی اہمیت سے متعلق سوال کے جواب میں
کانگریس مین سوزی نے کہا کہ اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث پاکستان کو امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کے حوالے سے کانگریس مین ٹام سوزی نے واضح مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں دونوں ممالک کے لوگ رہتے ہیں اور وہ دونوں کمیونٹیز کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ پاکستان کے سفیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں باوقار اور پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران امریکہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تمام معاملات مفاہمتی عمل کے دوران زیر بحث لائے جائیں گے اور پاکستان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کا خواہاں ہے۔ سفیر رضوان شیخ نے کہا کہ پاکستان عزت اور علاقائی خوشحالی کی بنیاد پر امن کا خواہاں ہے۔
