اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن اتوار 22 مارچ کو منایا گیا۔ رواں سال عالمی یوم آب ’’پانی اور صنفی مساوات: جہاں پانی بہتا ہے، وہاں برابری بڑھتی ہے‘‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے ۔ 2026 کے عالمی یوم آب کا موضوع سے واضح ہوتا ہے کہ آبی تحفظ محض ایک تکنیکی مسئلہ ہی نہیں بلکہ سماجی انصاف اور صنفی برابری
کی اہمیت کا بھی حامل ہے۔پاکستان کو پانی کی قلت کے چیلنجز کا سامنا ہے اور قیام پاکستان کے بعد فی کس پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے کم ہو کر تقریبا ً ایک ہزار مکعب میٹر تک کم ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر متوقع بارشیں اور گلیشیئرز کے نظام میں تبدیلیوں نے پانی کی قلت کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔پانی کی کمی تمام طبقات کی روزمرہ زندگی، رہن سہن اور معاشرتی تنوع پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔گھریلو سطح پر صنفی پہلو نہایت اہم
ہے کیونکہ عموماً ہماری خواتین گھریلو استعمال کے پانی کے انتظام کی زیادہ تر ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔ پانی کی دستیابی میں مشکلات خواتین کے قیمتی وقت کا ضیاع کا سبب بنتی ہے جس سے ان کی تعلیمی اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔عالمی یوم آب کے موقع پر ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں سرکاری، غیر سرکاری اور سماجی و نجی اداروں کے زیر اہتمام منعقدہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور پانی کی اہمیت،افادیت اور قلت کے مسائل بارےآگاہی فراہم کی گئی۔

