اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ریلوے کی ملکی معیشت اور مواصلات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے ریلوے انفراسٹرکچر کی پائیدار بنیادوں پر تعمیر نو کی اشد ضرورت اور علاقائی تجارت و روابط کے لئے ریلوے کو جدید بنیادوں پر ترقی دینا قومی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ وہ بدھ کو یہاں اپنی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ پاکستان ریلویز کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ
کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کا نظام ملک کی معیشت اور مواصلات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ملکی معاشی اور صنعتی ترقی کے لئے ملک بھر کے ریلوے انفراسٹرکچر کی پائیدار بنیادوں پر تعمیر نو کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی تجارت و روابط کے لئے ریلوے کو جدید بنیادوں پر ترقی دینا قومی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے پاکستان ریلویز کو مال برداری(فریٹ) کی سہولیات اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ایندھن کی بچت کے حوالے سے اشیاء کی نقل و حمل کے لئے ریلوے کی فریٹ سروس کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔اجلاس میں پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلویز کی فریٹ سروس میں اس سال21فیصد اضافہ متوقع ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے مین لائن ون(ایم ایل ۔ ون) کے پہلے فیز کراچی-روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے کام جاری ہے، انجینئرنگ ڈیزائن، ماحولیاتی اثرات سے متعلق فیلڈ سروے اور زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے، تھر ریل کنکٹیویٹی منصوبے پر 57 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بریفنگ کے مطابق مین لائن تھری کے روہڑی-نوکنڈی سیکشن کی اپ گریڈیشن صوبہ بلوچستان سے معدنیات کی ترسیل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جس کے لئے ڈیزائین کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں اور پی-سی ون بھی تیار ہو چکا ہے۔ پاکستان ریلویز کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل بھی جاری ہے۔ رابطہ ایپلیکیشن ، کیش لیس ٹکٹنگ اور ریلوے سٹیشنوں پر مفت وائی فائی کی فراہمی اہم سنگ میل ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فریٹ مینجمنٹ سسٹم، ڈیجیٹل وئینگ بریجز اور رولنگ اسٹاک ٹریکنگ سسٹم سے فریٹ سروسز کا معیار بہتر اور شفاف ہوا ہے
