اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر انوشہ رحمان کی زیر صدارت ورچوئلی منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت کے استعمال شدہ بجٹ کا جائزہ لیا گیا، مالی سال 2026-27 کے لئے پی ایس ڈی پی تجاویز پر غور کیا گیا، انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) سے متعلق سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، خواتین کاروباری افراد کے فروغ اور کاٹیج انڈسٹری کے استحکام کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ کوریا اور جدہ میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلرز کی بریفنگز بھی سنی گئیں۔اجلاس میں سینیٹر سرمد علی، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر راحت جمالی اور سینیٹر بلال احمد نے شرکت کی۔کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لئے پی ایس
ڈی پی تجاویز کا جائزہ لیا اور بتایا گیا کہ دو ترقیاتی منصوبے پیش کئے گئے ہیں۔ کوئٹہ ایکسپو سینٹر منصوبہ جس کی لاگت 4.8 ارب روپے ہے، پر غور کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین نے مجوزہ مقام پر تحفظات کا اظہار کیا۔کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے بریفنگ میں بتایا کہ موجودہ مقام شہر سے دور ہے، جو تجارتی نمائشوں کے لئے موزوں نہیں ہے۔ سیکرٹری ٹی ڈی اے پی نے بھی آگاہ کیا کہ وفاقی وزیر تجارت نے بلوچستان حکومت کو متبادل مقام فراہم کرنے کے لئے خط لکھا تھا تاہم صوبائی حکومت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ موجودہ مقام پر ایکسپو سینٹر کی تعمیر عوامی وسائل کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے اور سکیورٹی خدشات کے باعث یہ منصوبہ مطلوبہ آمدن پیدا نہیں کر سکے گا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ منصوبے کو موجودہ مقام پر غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مؤخر کیا جائے اور اس معاملے کو دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ اٹھایا جائے۔ کمیٹی نے وزارتِ تجارت کو ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر وفاقی وزیر تجارت اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے درمیان اجلاس کا اہتمام کیا جائے تاکہ متبادل مقام کا تعین کیا جا سکے اور اس وقت تک بجٹ منظوری مؤخر رکھی جائے۔کمیٹی کو ’’ایکسپورٹ ایکسیلیریٹر برائے ایس ایم ایز‘‘ منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔اراکین نے رائے دی کہ برآمدات کے فروغ کے منصوبے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کے ذریعے مالی اعانت کے لئے پیش کئے جانے چاہئیں۔ سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ یہ منصوبہ وزیر برائے منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات کی ہدایت پر شروع کیا گیا۔ تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے ہدایت دی کہ اس منصوبے کو پہلے ای ڈی ایف بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر ہی پی ایس ڈی پی کے ذریعے فنڈنگ پر غور کیا جائے۔کمیٹی نے آئی پی او کے دفاتر، بشمول پیٹنٹ آفس، کاپی رائٹ آفس اور ٹریڈ مارکس رجسٹری کراچی سے متعلق سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ اراکین کو بتایا گیا کہ ادارہ سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلا رہا ہے۔ چیئرپرسن نے زیر التواء مقدمات کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ انہیں جلد از جلد نمٹایا جائے۔ آئی پی او حکام نے یقین دہانی کرائی کہ انسانی وسائل کی تربیت کے ذریعے چھ ماہ کے اندر زیر التواء کیسز نمٹا دیے جائیں گے۔اجلاس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کی جانب سے خواتین کاروباری افراد کے فروغ اور کاٹیج انڈسٹری کے استحکام کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ چیئرپرسن نے ان اقدامات کو سماجی و معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے مزید پالیسی سطح کی مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹی ڈی اے پی نے بتایا کہ خواتین کاروباری افراد کے لئے خصوصی ڈویژن قائم کیا ہے اور مختلف این جی اوز اور سرکاری اداروں، بشمول پاکستان سنگل ونڈو، کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔کوریا اور جدہ میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلرز نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی۔چیئرپرسن نے کوریا کے ساتھ مخصوص صنعتی شعبوں میں تجارت کے فروغ اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں ابھرتے ہوئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں پاکستان کے لیے مواقع کی نشاندہی بھی کی۔جدہ میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر نے بتایا کہ تقریباً سو پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں سعودی عرب میں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی بڑی برآمدات میں خوراک اور ٹیکسٹائل شامل ہیں۔چیئرپرسن نے وزارتِ تجارت اور کونسلر جدہ کو ہدایت دی کہ خطے میں ممکنہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی ملازمتوں اور کاروباری مواقع سے پاکستانی پیشہ ور افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے۔
