گاندھی نگر ۔( نیوز ڈیسک):بھارتی ریاست گجرات کے علاقے راجکوٹ میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے نے ایک بار پھر مودی کے بھا رت میں دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، ناانصافیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز ی سلوک کو بے نقاب کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز راجکوٹ میں ایم بی بی ایس کے
آخری سال کے دلت طالب علم نے خودکشی کر کے ایک نوٹ چھوڑدیا جس میں ا س نے ساتھی طالب علموں پرہراساں کرنے کا الزام لگا یاہے۔دلت طالب علم جس کی شناخت رتن میگھوال کے نام سے ہوئی ہے، مبینہ طور پر ٹرین کے سامنے کود گیا۔ اپنے خودکشی کے نوٹ میں اس نے ایک ساتھی طالب علم اسمیتا شرما اور چار دیگرپرجسمانی اور ذہنی تشدد کا الزام لگایا۔نوٹ میں میگھوال نے کہا کہ اسے اس کی ذات کی وجہ سے بار بار نشانہ بنایا گیا اورنچلی ذات سے تعلق کی وجہ سے اسے تذلیل، بدسلوکی کا سامنا رہااور سماجی طور پر الگ تھلگ کیاگیا۔میگھوال نے کہا کہ حالات نے اسے شدید نفسیاتی پریشانی میں دھکیل دیا۔اس واقعے پر طلباءتنظیموں اور سول سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایاجاتا ہے۔ انہوں نے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
