اقوام متحدہ(نمائندہ خصوصی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا اسلاموفوبک ملک ہے اور مسلمانوں سمیت اپنی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ یہ اجلاس بین الاقوامی دن برائے اسلاموفوبیا سے نمٹنےکے موقع پر منعقد ہوا۔پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمدنے جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، مسجدوں کی تباہی اور عوامی قتل جیسے اقدامات میں ملوث افراد کو سزا دینے میں ناکام رہاہے۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان
"گھناؤنے اعمال” میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اسلاموفوبیا محض کچھ حاشیے پر موجود افراد کا نہیں بلکہ ریاست اور حکومت کی سرپرستی میں جاری ہے، اور دنیا بھر میں اسلاموفوبک واقعات کی سب سے بڑی تعداد بھارت میں دیکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر سری نگر میں مسلمانوں کو مسلسل ساتویں سال جمعہ کی نماز کے دوران شرکت سے روک دیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتو نیو گوتریش نے خطاب میں تمام ممالک سے مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت کو ختم کرنے، انسانی حقوق اور مساوات کے اصولوں پر عمل کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اقلیتوں کے مسلمانوں کی روزمرہ زندگی اکثر تعصب، سماجی اور معاشی حاشیہ بندی، غیر ضروری نگرانی اور پروفائلنگ سے متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد صرف مسلمانوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ یہ نسلی تعصب، تعصب، اجنبی دشمنی، عدم برداشت اور نفرت کے خلاف انسانیت کی مشترکہ جدوجہدہے۔ انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ قانونی فریم ورک مضبوط کریں، نفرت انگیز ڈھانچوں کو ختم کریں، شعور اجاگر کریں اور مذہب کی آزادی کو یونیورسل حق کے طور پر یقینی بنائیں۔

