لاہور۔( نمائندہ خصوصی):نامور اداکار وصداکار شجاعت ہاشمی لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ کچھ عرصے سے علیل اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔خاندانی ذرائع کے مطابق شجاعت ہاشمی کو دل کادورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔شجاعت ہاشمی کا شمار پاکستان کے سینئر فنکاروں میں ہوتا تھا اورانہوں نے اپنی اداکاری و صداکاری کے ذریعے شوبز انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔شجاعت ہاشمی نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہردکھائے ،ان کی مشہور فلموں میں خاک اور
خون ،سوہرا تے جوائی،دوستانہ،راکا اور بابل دیاں گلیاں شامل تھیں ۔شجاعت ہاشمی ایک پڑھے لکھے فنکارتھے،جنہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کررکھا اورحکومت پاکستان نے ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیِڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیاتھا۔شجاعت ہاشمی کے انتقال کی خبر سن کر شوبز حلقوں اور ان کے مداحوں میں گہرے رنج و غم کی فضا پائی جا رہی ہے۔نامور سینئر اداکار اور صداکار شجاعت ہاشمی کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔مرحوم کی نماز جنازہ جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو میں ادا کی گئی جس میں شوبز، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی شوبز حلقوں اور مداحوں میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی ہے۔شجاعت ہاشمی کا شمار پاکستان کے سینئر اور باوقار فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے کئی دہائیوں تک ٹیلی ویژن، فلم اور صداکاری کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں
حکومت پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔شجاعت ہاشمی نے 1970 کی دہائی میں اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور اپنے فنی کیریئر کا آغاز پی ٹی وی کے ڈرامے کہر سے کیا۔شجاعت ہاشمی ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت فنکار تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور نوجوانی کے زمانے ہی سے فنِ اداکاری اور صداکاری سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو اور اسٹیج سے کیا اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی ویژن سے منسلک ہو کر ڈرامہ انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہری دور کے ان فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے معیاری ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ شجاعت ہاشمی اپنی سنجیدہ اداکاری، مضبوط مکالمہ ادائیگی اور باوقار شخصیت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ان کے کردار حقیقت سے قریب اور معاشرتی موضوعات کی عکاسی کرتے تھے۔ٹیلی ویژن ڈراموں میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں شجاعت ہاشمی نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہری دور میں متعدد مقبول ڈراموں میں اداکاری کی اور اپنی جاندار اداکاری کے باعث ناظرین میں مقبول رہے۔ انہوں نے خاص طور پر سنجیدہ اور باوقار کرداروں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ان کے مشہور اور مقبول ڈراموں میں اپنے دور کا مقبول ترین ڈرامہ سیریل
وارث میں مولاداد کے کردار نے شجاعت ہاشمی کو گھر گھر مقبول بنا دیا تھا۔جبکہ دیگر مقبول ڈراموں میں اندھیرا اجالا ،تنہائیاں ،خواجہ اینڈ سن ،الف نون، نشانِ حیدر، دھوپ کنارے شامل ہیں ۔ان ڈراموں میں ان کے کرداروں کو ناظرین نے بے حد پسند کیا اور وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے کلاسک ڈراموں کا حصہ بن گئے۔ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ شجاعت ہاشمی نے فلمی صنعت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے مختلف فلموں میں اداکاری کی جن میں نمایاں فلمیں خاک اور خون ،سوہرا تے جوائی،دوستانہ ،راکا ،بابل دیاں گلیاں شامل ہیں ان فلموں میں انہوں نے مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے اور اپنی جاندار اداکاری کے ذریعے فلمی شائقین کی توجہ حاصل کی۔شجاعت ہاشمی ایک عمدہ صداکار بھی تھے اور ان کی گمبھیر اور پراثر آواز انہیں دیگر فنکاروں سے ممتاز بناتی تھی۔انہوں نے مختلف پروگراموں اور پروڈکشنز میں وائس اوور اور صداکاری کے ذریعے بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ، اداکاری کے شعبے میں خدمات پر شجاعت ہاشمی کو 1994 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد شوبز شخصیات، فنکاروں اور مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ فنکار
برادری کا کہنا ہے کہ شجاعت ہاشمی ایک باوقار اور باصلاحیت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی اداکاری اور آواز کے ذریعے پاکستانی ڈرامہ اور فلمی صنعت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔مداحوں کے مطابق شجاعت ہاشمی جیسے فنکار کم پیدا ہوتے ہیں اور ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔شرکا نے مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعا کی جبکہ ان کی فنی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
