اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں میڈیکل طالبہ خدیجہ غفور کے مبینہ زیادتی، تشدد اور ویڈیو وائرل کرنے کے کیس میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری فیصلے میں عدالت نے زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنے کے دو الگ ٹرائلز کو یکجا کرنے کی ملزمہ کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنا دو الگ الگ جرائم ہیں، اس لئے دونوں مقدمات کے علیحدہ ٹرائل قانون کے مطابق ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں مقدمات کی تحقیقات مختلف اداروں نے کی ہیں، اس لئے الگ ٹرائلز میں کوئی قانونی قباحت نہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ مقدمات کو یکجا کرنا ٹرائل کورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے، یہ لازمی قانونی تقاضا نہیں۔سپریم کورٹ نے گواہوں کے بیان سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بیان
ریکارڈ کراتے وقت گواہ کو کٹہرے میں کرسی فراہم کی جائے۔عدالت کے مطابق قانون میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں کہ گواہ اپنا بیان لازماً کھڑے ہو کر ہی ریکارڈ کرائے۔عدالت نے قرار دی کہ گواہ کو طویل وقت تک کھڑا رکھنا انسانی وقار اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی آئینی حقوق کے منافی ہے۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ جرح کے نام پر گواہ کو تھکانے یا تذلیل کے لئے غیر متعلقہ سوالات پوچھنا حقِ جرح کا ناجائز استعمال ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ ٹرائل جج جرح کے دوران خاموش تماشائی نہیں بلکہ بیدار نگران کا کردار ادا کرے۔ سپریم کورٹ نے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا بھی حکم دیا۔
