• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایران میں اسرائیلی اثاثے

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 3, 2026
in کالمز
0
ایران  میں اسرائیلی اثاثے
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایران پر امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے نہ تو اچانک ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی ابہام تھا ۔ امریکا نے ایران میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو حکومت سے بے دخل کرنے کے لیے پہلے اندرون ملک احتجاج کی مہم شروع کی تھی ۔ یہ مہم بالکل اُسی فرنچائز کے تحت تھی جس کے ذریعے پوری دنیا میں حکومتیں کامیابی سے تبدیل کی گئی تھیں ۔ پہلے انہیں رنگین انقلاب کہا جاتا تھا ، بعد میں انہیں جین زی کا نام دے دیا گیا ۔ ایرانی حکومت کامیابی سے اس کا مقابلہ کرگئی تھی ۔ پہلے بھی ایران میں سبز انقلاب کے نام پر حکومت کی تبدیلی کی تحریک شروع کی گئی تھی جو ناکامی کا شکار ہوئی تھی ۔ ہزیمت اٹھانے کے بعد ٹرمپ نے واضح طور پر فوجی طاقت کے ذریعے خامنہ ای کو حکومت سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم عرب اتحادی حکومتوں نے ان حملوں میں براہ راست شمولیت یا مدد دینے سے انکار کردیا تھا ۔ جس کے بعد ٹرمپ کو اپنے بحری بیڑے خلیج میں پہنچانے پڑے ۔ ایران پر حملے کا الارم کئی بار بجا جس کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بھی بند کیں اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگیا مگر یہ حملے موخر کر دیے گئے ۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ کو اپنے ہدف آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے واضح نشاندہی نہیں مل پارہی تھی ۔ یہ حملے موخر ضرور کیے گئے تھے مگر منسوخ نہیں ۔ اسے اس طرح دیکھیں کہ خطہ سے مغربی ممالک کے سفارتی عملے اور ان کے خاندانوں کو واپس بلانے کے بعد دوبارہ نہیں بھیجا گیا تھا ۔

بالآخر امریکا اور اسرائیل نے جمعہ کو ایران پر حملہ کردیا ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ انہیں اپنے مطلوبہ ہدف کے بارے میں یقینی معلومات مل چکی تھیں ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ہدف کی انتہائی درست نشاندہی سی آئی اے کا کارنامہ تھا ۔ نیویارک ٹائمز اپنی یکم مارچ کی ایک رپورٹ میں جس کا عنوان تھا The CIA Helped Pinpoint a Gathering of Iranian Leaders , Then Israel Struck میں لکھتا ہے کہ سی آئی اے کئی ماہ سے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی جاسوسی کر رہی تھی۔ سی آئی اے کو اطلاع ملی کہ ہفتے کی صبح ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اعلیٰ ایرانی عہدیداران کے ساتھ اہم اجلاس کرنے جا رہے ہیں ۔ سی آئی اے نے اپنی اطلاع جس میں خامنہ ای کی لوکیشن بارے انتہائی درستگی پائی جاتی تھی اسرائیل سے شیئر کی۔ سپریم لیڈر خامنہ ای کی صدارت میں صبح 9 بجے پاسدارن انقلاب کے کمانڈر ان چیف محمد پاکپور ، وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ ، ملٹری کونسل کے سربراہ ایڈمرل علی شمخانی ، ایرانی فضائیہ کے سربراہ سید مجید موسوی اور انٹیلی جینس کے نائب وزیر محمد شیرازی کااجلاس طے تھا۔

تہران کے وقت کے مطابق صبح تقریباً 9 بج کر 40 منٹ پر سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایاگیا۔ حملے کے وقت ایرانی قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کمپاؤنڈ کی ایک عمارت میں موجود تھے، جبکہ سپریم لیڈر خامنہ ای اس کے ساتھ ہی دوسری عمارت میں موجود تھے۔ آخر یہ کون تھا جو سی آئی اے کو ہائی پروفائل ٹارگٹ کے بارے میں اتنی درست معلومات لمحہ بہ لمحہ فراہم کررہا تھا ۔ اس کے بارے میں نیویارک ٹائمز اپنی اسی رپورٹ کے اختتامی پیراگراف میں ایک اشارہ دیتا ہے ۔ رپورٹ میں نیویارک ٹائمز کہتا ہے کہ سی آئی اے کو اسی ذریعے نے خامنہ ای کی لوکیشن بتائی جس کی ریکی پراس نے جون میں اعلیٰ ایرانی شخصیات کونشانہ بنایاتھا۔ نیویارک ٹائمز آخری جملہ لکھتا ہے کہ ایران کا ٹاپ انٹیلی جینس افسر بچ نکلا جبکہ دیگر ہائی رینک افسران مارے گئے ۔

ایران میں سی آئی اے اور اسرائیل کے اس قیمتی اثاثے کو ڈھونڈنے سے قبل آیت اللہ کے کمپاؤنڈ پر حملے کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں ۔ عمومی طور پر کسی بھی ہدف پر ایک ہی میزائل فائر کیا جاتا ہے مگر مذکورہ کمپاؤنڈ پر 30 میزائل لگاتار انتہائی درست نشانے کے ساتھ فائر کیے گئے ۔ جو بھی امریکی سی آئی اے کا اثاثہ تھا ، اسے معلوم تھا کہ کتنے بجے میٹنگ ہوگی اور اس میں کون کون شریک ہوگا ۔ پھر اس نے سی آئی اے کو مطلوبہ معلومات فراہم کیں کہ ہائی پروفائل ٹارگٹ عمارت میں موجود ہیں ۔ میزائلوں سے تباہی کے بعد ، وہ شخص اتنا بااثر تھا کہ عمارت کے اندر پہنچا اور اس نے شہداء کی تصاویر انتہائی اطمینان سے اتار کر اپنے آقاؤں کو ارسال کیں جس کے بعد امریکی اور اسرائیلی سربراہان نے نہ صرف آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ یہ سب تصاویر دیکھ کر کہہ رہے ہیں ۔

آگے بڑھنے سے قبل ہم ایک مافوق الفطرت شخصیت کو دیکھتے ہیں ۔ اس شخصیت کا نام ہے اسماعیل قانی ۔ یہ آج کل ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں اور پاسداران کی شاخ قدس فورس کے سربراہ ہیں ۔ پہلے یہ قدس فورس کے سابق سربراہ شہید قاسم سلیمانی کے نائب تھے ۔ ان کی شہادت کے بعد انہیں قدس فورس کی سربراہی کے منصب پر فائز کیا گیا تھا ۔ یہ مافوق الفطرت شخصیت کے مالک اس طرح ہیں کہ جب قاسم سلیمانی کو بغداد ائرپورٹ پر امریکی ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ، تو انہیں ہی قاسم سلیمانی کی نقل و حرکت کی درست معلومات تھیں ۔ قاسم سلیمانی کا نقصان ایسا تھا کہ بعد کے دنوں میں ایران کے قدم ایک ایک کرکے پورے خطے سے ہی اکھڑتے چلے گئے ۔

بیروت میں انہوں نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے لیے مجبور کیا تھا مگر عین وقت پر یہ وہاں نہیں پہنچ سکے مگر اسرائیل نے حسن نصراللہ کی موجودگی کی درست نشاندہی پر اس عمارت پر زبردست بمباری کی اور یوں حزب اللہ کی پوری لیڈر شپ بمعہ حسن نصراللہ شہید کردی گئی ۔ یوں لبنان میں ایران کی ریڑھ کی ہڈی کو ایک منٹ میں توڑ دیا گیا ۔گزشتہ جون میں ایران کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کا انتہائی اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا گیا ۔ یہ انتہائی خفیہ اجلاس تھا مگر اس کی اطلاع اسرائیل کو تھی اور اُس نے اس مرتبہ بھی کوئی غلطی نہیں کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایران کے مایہ ناز سپوت اس دنیا میں نہیں رہے ۔ قانی اس مرتبہ بھی بچ گئے ۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

آیت اللہ خامنہ ای اپنے کمپاؤنڈ میں عمومی طور پر موجود نہیں ہوتے تھے بلکہ کسی خفیہ مقام پر ہوتے تھے ۔ حسن نصراللہ کی طرح خامنہ ای کو بھی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے نام پر گھیر کر بلایا گیا ۔ چونکہ اعلیٰ سطحی اجلاس تھا ، اس لیے دیگر ہائی رینک شخصیات بھی موجود تھیں ۔ چونکہ اطلاع پکی تھی ، اس لیے اسرائیل نے اس مرتبہ بھی کوئی غلطی نہیں کی ۔ یو ں تو چند میزائیل بھی کافی تھے مگر اسرائیل نے کسی بھی شک و شبہ سے بچنے کے لیے مذکورہ کمپاؤنڈ پر لگاتار 30 میزائل فائر کیے ۔ حیرت انگیز طور پر اس مرتبہ بھی قانی نے داعی اجل کو چکمہ دے دیا ۔

ایران میں یہ پہلی کارروائی نہیں ہے جس میں ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو ۔ ایرانی سائنسدانوں سے لے کر اسماعیل ہانیہ کی شہادت تک سب انٹیلی جینس معلومات پر مبنی آپریشن تھے۔ اسماعیل ہانیہ کے بارے میں تو یہ بھی پتا چلا کہ انہیں جس کمرے میں ٹھیرایا گیا تھا ، اسی کمرے میں بم نصب کیا گیا تھا۔ اتفاق سے مذکورہ کمرے کا ائرکنڈیشنڈ خراب ہوگیا جس کے باعث انہیں مجبورا دوسرے کمرے میں منتقل کرنا پڑا ۔ منصوبے کو ناکام ہوتا دیکھ کر ائرکنڈیشنڈ کو فوری طور پر مرمت کرکے اسماعیل ہانیہ کو دوبارہ اسی کمرے میں منتقل کیا گیا اور پھر اسرائیلیوں کا آپریشن کامیاب ہوگیا ۔

جب بے نظیر بھٹو کو گولی کا نشانہ بنایا گیا تو میری خاتون خانہ نے بے ساختہ تبصرہ کیا تھا ، کاش یہ اپنے بھائی کے قاتلوں کو گرفتار کرلیتی تو آج یہ جان سے نہ جاتی ۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا سن کر میرے ذہن میں بھی یہی جملہ آیا کہ کاش ہانیہ کی شہادت پر ہی اگر گھر کے اندر صفائی کرلی ہوتی تو آج ایران اس حال میں نہ ہوتا ۔

بات خامنہ ای کی شہادت تک ہی محدود نہیں ہے ۔ اس سانحے کے فوری بعد ایران نے جو ردعمل دیا ، اسے نرم سے نرم الفاظ میں حماقت ہی کہا جا سکتا ہے ۔ عرب امارات ، قطر ، بحرین اور سعودی عرب پر حملے کا آسان زبان میں یہ مطلب ہے کہ آپ نے خود انہیں اسرائیلی فوج کے اتحادیوں میں شامل کردیا ہے یا انہیں ایران پر حملے کا جواز فراہم کردیا ہے ۔ ان ممالک نے تو پہلے ہی اپنے ملک سے ایران پر حملے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا ۔ ایران پر حملے تو عراق کی فضائی حدود استعمال کرکے ہوئے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ان حملوں کا حکم بھی قانی نے ہی دیا تھا کہ ایرانی بحری، بری اور فضائیہ کے سربراہان تو آیت اللہ کے ساتھ ہی شہید ہوچکے تھے ۔

آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہوگی ۔ مگر اتنی بات تو واضح ہے کہ اب یہ پورا خطہ پھر سے بدامنی کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ اس لپیٹ میں پاکستان بھی شامل ہے ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

اسرائیلی جارحیت قابل مذمت ،آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ناقابل برداشت ہے. آفاق احمد

اگلی پوسٹ

وزیر اعظم شہباز شریف کی عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فون پر بات چیت، خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے سفارتی کوششیں فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
وزیر اعظم شہباز شریف کی عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فون پر بات چیت، خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے سفارتی کوششیں فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور

وزیر اعظم شہباز شریف کی عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فون پر بات چیت، خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے سفارتی کوششیں فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper