• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

پاکستان اور روس کو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے، باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے اور پائیدار دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں، ڈاکٹر روکسیلانا زیگون

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 28, 2026
in پاکستان
0
پاکستان اور روس کو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے، باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے اور پائیدار دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں، ڈاکٹر روکسیلانا زیگون
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد(انٹرنیشنل ڈیسک):پاکستان اور روس کو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے، باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے اور پائیدار دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔پاکستان-روس میڈیا فورم کے دوران ’’روس اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے تناظر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشن کے سائنٹفک سینٹر آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی سربراہ اور جیو پولیٹیکل تجزیہ کار ڈاکٹر روکسیلانا زیگون نے کہا کہ یہ فورم پاکستان اور روس کے درمیان گہرے تعاون کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی نے دونوں ممالک کو مشترکہ اسٹریٹیجک اور جغرافیائی سیاسی مقاصد کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ڈاکٹر زیگون نے مزید کہا کہ یہ فورم وزیر اعظم شہباز شریف کے ماسکو کے دورے سے قبل اسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہےاور اس میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں، بھارت کے ساتھ کشیدگی کو ذمہ دارانہ انداز میں سنبھالنے اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک ’’مڈل پاور‘‘ کے طور پر منوانے پر زور دیا گیا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سفارتی اور عسکری اقدامات، بشمول بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مؤثر انتظام، ایک جوہری ریاست کے طور پر اس کی حکمت عملی پر مبنی تحمل اور ذمہ داری کی عکاسی کرتے ہیں۔ڈاکٹر زیگون نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور وہ عالمی امور میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور اعلیٰ عسکری حکام نے بین الاقوامی مکالمے کے ذریعے پاکستان کے ’’مڈل پاور‘‘ کردار کو دوبارہ اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں سال 2000 کی دہائی کے اوائل سے بتدریج بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک نے دفاع، توانائی اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں اعتماد سازی اور تعاون کو فروغ دیا ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ثروت رؤف نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات میں واضح بہتری نظر آ رہی ہےاورموجودہ مرحلہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود پیش رفت کو مستحکم کرنے کے لیے موزوں وقت ہے۔ انہوں نے طویل مدتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تعلیمی اور فکری تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔کونسل آف کمپلینٹس کے چیئرپرسن ڈاکٹر سید محمد علی نے تعاون کے ممکنہ نئے شعبوں اور باہمی اعتماد کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے چودہ اہم چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کیں اور مستقبل میں مضبوط تعلقات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔سینئر صحافی الماس حیدر نقوی نے فورم کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعاون علاقائی اور عالمی مفادات تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے کثیر القومی فورمز میں تعاون کو باہمی اعتراف اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کی علامت قرار دیا۔نیوز تجزیہ کار اور اینکر شوکت پراچہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے متوقع دورہ ماسکو کو اسٹریٹیجک تعلقات کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے گستاخانہ مواد کی مذمت کی اور ان مواقع کو یاد کیا جب روس نے اہم بین الاقوامی امور پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی۔“بین الاقوامی صحافت میں نئے رجحانات” کے عنوان سے منعقدہ تیسرے سیشن کے دوران Rossiya Segodnya کے ایگزیکٹو کنٹینٹ پروڈیوسر دمتری لیونتیف نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا اداروں کو رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہاں اپنے قومی مفاد کے تحت موجود ہیں، اور پاکستانی میڈیا کو بھی اپنے قومی مفاد کی پیروی کرنی چاہیے،” اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کے مفادات کا تعین اس ملک سے بہتر کوئی بیرونی ادارہ نہیں کر سکتا۔پاکستان سے اینکر متین حیدر نے رپورٹنگ میں معروضیت، موضوعیت اور آزادیٔ صحافت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کے بعض حصوں میں موجود تعصب کی نشاندہی کی جو پاکستان کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے اور زمینی حقائق کے برعکس سیاحت کی حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے۔

سپوتنک انٹرنیشنل کے سربراہ دمتری الیگزینڈر سائمز نے کہا کہ ان کا ادارہ متعدد زبانوں میں کام کرتا ہے اور پاکستانی ناظرین سے بہتر رابطے کے لیے اردو پروگرامنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا اداروں کے ساتھ تعاون کی پیشکش بھی کی اور باہمی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔روسیا سیگودنیا میڈیا گروپ کے ایک کونسلر نے بین الاقوامی امور میں عوامی دلچسپی میں اضافے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ایشیا ون کے بیورو چیف اساس ملک نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے حالیہ وزارتی دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی طلبہ کے لیے مزید وظائف کے اعلان پر زور دیا۔پاکستان کی وزارتِ دفاع کے مشیر اور ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماریہ سلطان نے اعتماد کے خلا کو پُر کرنے میں ابلاغ اور صحافت کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ درست اور متوازن میڈیا نمائندگی کے بغیر پائیدار تعاون ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں جانب سچ کی عکاسی کرنے والی آوازیں موجود نہ ہوں تو رابطے کا پل قائم نہیں رہ سکے گا۔” انہوں نے طویل عرصے سے موجود بداعتمادی اور ماضی کے تصورات پر قابو پانے کے لیے میڈیا روابط کو ناگزیر قرار دیا۔ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پاکستان اور روس ثقافتی اور تزویراتی طور پر ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں جتنا عموماً سمجھا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے معاشی وژن اور طویل مدتی منصوبہ بندی میں مماثلت پائی جاتی ہے، اگرچہ عوامی سطح پر فاصلے کا تاثر موجود ہے۔انہوں نے ادارہ جاتی مکالمے، فعال میڈیا تعاون اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان سمیت روسی میڈیا شراکت داروں کے ذریعے روابط بڑھانے پر زور دیا۔معاشی محاذ پر انہوں نے نمایاں منصوبوں کے ذریعے ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً طویل عرصے سے زیرِ التوا پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے اور بینکاری و تجارتی روابط کے لیے مؤثر مالیاتی فریم ورک قائم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

پچھلی پوسٹ

نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی قطر کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلی فون پر گفتگو، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال

اگلی پوسٹ

آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کے 352 کارندے ہلاک، 535 سے زائد زخمی ہوئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کے 352 کارندے ہلاک، 535 سے زائد زخمی ہوئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کے 352 کارندے ہلاک، 535 سے زائد زخمی ہوئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper