سیلانی کو خوست کی وہ بوجھل خاموشی آج بھی یاد ہے جسے درمیانی قامت کے نوجوان کمانڈر کی آواز نے چیرتے ہوئے اہل مجلس کے دل چیر دیئے تھے ،وہ ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت کا اعلان کررہے تھے، بابری مسجد کی شہادت کا سن کر سب جیسے سکتے میں آگئے اور پھر سسکیاں اور ہچکیاں ایک عظیم کرب کی گواہی دینے لگیں ۔۔۔ ہاں!ان دنوں سیلانی افغانستان میں تھا اور سیلانی ہی کیا اس جیسے ہزاروں سیلانی خوست پکتیا جلال اباد قندھار ایسے آتے جاتے تھے جیسے کوئی بہاولنگر سے راولپنڈی کی بس پکڑتا ہے،میران شاہ ان دنوں عالمی شہر تھا جہاں عرب تاجک ازبک بنگالی انڈونیشین اور گھنگریالے بالوں والے آبنوسی رنگ کے بدو کاندھوں سے کلاشن کوفیں لٹکائے بازاروں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے تھے اور مشین گنز والی فور بائی فور ڈالے عام نظر آتے تھے،مقامی دکاندار تسبیح پھیر پھیر کر عربوں کی آمد کے منتظر ہوتے کہ مالدار گھرانوں کے عرب شہزادے پہلی بولی پر ہی خریداری کے لئے مشہور تھے بازار سے گزرتے گزرتے کہیں کوئی رائفل پسند آئی تو سلام کیا قیمت پوچھی، کلاشن کوف ہاتھ میں لی ،سیفٹی لاک ہٹایا نال کا رخ آسمان کی طرف کر کے برسٹ چلایا ،تسلی ہوئی تو کیش قیمت دے کر کاندھے سے لٹکا کر چلتے بنے۔
نوے کی دہائی میں میران شاہ ایسا ہی "بین الاقوامی” شہر تھا یہاں بہت کچھ مل جاتا، تبت سنو کریم سے لے کر امپورٹڈ شیمپو اور دوشکا سے لے کر راکٹ لانچر تک،سب مل جاتے تھے پاکستان افغان جہاد کا ایسا ہی بیس کیمپ تھا تھکے ہارے مجاہدین یہاں آکر کمر سیدھی کرتے ،ان جنگجوؤں کو زخم قندھار،ہلمند یا زابل میں ملتے اور مرہم یہاں میران شاہ،پشاور اور کوئٹہ میں،باہمی اختلافات کے باوجود یہ سارے پاکستانیوں کو عزیز تھے،پشاور میں حزب اسلامی کے گلبدین حکمتیار کے مجاہدین بھی فوجی ٹرکوں کے ساتھ دکھائی دیتے اور مولوی یونس خالص کے جتھے بھی نظر آتے تھے ،استاد سیاف کے قافلے بھی پشاور والوں کے لئے اجنبی نہ تھے اور جلال الدین حقانی بھی اپنے ہی تھے، یہ سب کچھ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی آج کی نیوز کانفرنس سے یاد آیا اور بے ساختہ فیض یاد آگئے
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد ۔۔۔۔۔
جناب فرما رہے تھے کہ پاکستان میں جاری شورش ایک داخلی معاملہ ہے افغانستان میں موجودہ حکومت کو تقریباً چار سال ہوئے ہیں اور دہشتگردہ کا مسئلہ بیس برس پرانا ہے اس لیے پاکستان کی پرانی اندرونی مشکلات کو افغانستان سے جوڑنا غیر منطقی ہے۔۔۔۔اس نیوزکانفرنس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی ہے کہ افغانستان اپنی غلطی کی درستگی نہیں چاہتا،مانا کہ دہشت گردی ہمارا پرانا مسئلہ ہے لیکن اب اسے کھلے ننگی سپورٹ افغانستان سے مل رہی ہے ایسا نہیں تو پاکستان کے فضائی حملوں پر ٹی ٹی پی جواب دینے کی دھمکی کیوں دیتی ہے ؟ پاکستان کا یہ داخلی معاملہ سیدھا افغانستان سے جا کر ملتا ہے،ٹی ٹی پی کو کابل کی مکمل سپورٹ یے وہاں سے تشکیلات پر پاکستان آنے والے گرفتار ہونے کے بعد فرفر بتا رہے ہوتے ہیں لیکن ذبیح اللہ مجاہد کہتے ہیں ہماری کوئی سپورٹ نہیں،وہاں کے ڈپٹی گورنر کا بیٹا یہاں خودکش حملہ کرتا ہے اور شناختی دستاویزات کے ساتھ معاملہ کابل کے سامنے رکھا جاتا ہے اور ذبیح اللہ کہتے ہیں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ اس بیانیئے کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کو ریوائنڈ کر کے ایڈیٹ نہیں کیا جاسکتا لیکن سیکھ کر مستقبل محفوظ بنایا جاسکتا ہے اور اب پاکستان یہی کر رہا ہے پہلے افغانستان برادر ہمسایہ ملک تھا اور ایسا ہمسایہ ملک جس کے لئے ہم نے سرحدیں اور دل کھول رکھے تھے اب فقط ہمسایہ ہے ایسا ہمسایہ جیسے بھارت ہے جیسے پاکستان کو دہلی سے چوکنا رہتا ہے ویسے ہی کابل سے ہشیار رہنا ہوگا، ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کرنا افغان طالبان قیادت کی مجبوری ہے تو پھر یہ شیر کی نظر رکھنا پاکستان کی مجبوری ۔۔۔۔
سیلانی دیکھتا چلاگیا

