رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے، یہ صرف بڑوں کے لیے عبادت کا زمانہ نہیں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی اور اخلاقی تربیت کا بہترین موقع بھی ہے، اگر چہ شریعت کی رو سے نابالغ بچوں پر زور فرض نہیں ، لیکن رمضان کا ماحول ان کے دلوں میں دین کی محبت بسانے کا حسین ذریعہ بن سکتا ہے سوال یہ ہے کہ رمضان میں بچوں کے کیا فرائض ہیں ، اور وہ اس مبارک مہینے کو کس طرح اپنے لیے با مقصد بنا سکتے ہیں؟ سب سے پہلا فریضہ نیت اور شعور کی بیداری ہے بچوں کو سمجھایا جائے کہ رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ، بلکہ صبر شکر اور تقوی کا سبق دیتا ہے، اگر بچے پورا روز نہیں رکھ سکتے تو آدھا روز یا چند گھنٹوں کا روزہ رکھنا ان کی تربیت میں مددگار ثابت ہوتا ہے،اس عمل میں نرمی اور پیار ضروری ہے بختی اور ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے شفقت اور حوصلہ افزائی سے ان کے دل میں عبادت کی محبت پیدا کی جائے ، ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ بچے پانچ وقت نماز اور خاص طور پر تراویح کی اہمیت کو سمجھیں ، اگر بچے
پوری تراویح ادا نہ کر سکیں تو چند رکعت ہی سہی، مگر انہیں مسجد کے ماحول سے جوڑ نا ضروری ہے، اس طرح ان کے دل میں عبادت کی محبت پیدا ہوتی ہے، تیسر ا فریضہ قرآن سے تعلق ہے ، رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اس لیے بچوں کو روزانہ کچھ نہ کچھ قرآن پاک کی تلاوت یا ترجمہ سننے کی عادت ڈالنی چاہیئے جدید دور میں موبائل اور انٹر نیٹ کی بہتات نے بچوں کو اسکرین کا عادی بنادیا ہے ، رمضان ان عادتوں کو مثبت سمت دینے کا بہترین موقع ہے، اگر روزانہ چند آیات کا مفہوم سمجھا دیا جائے ، تو ان کی دینی اور روحانی تربیت مضبوط ہو گی ، چوتھا اہم پہلو اخلاق اور رویے کی اصلاح ہے، روزہ
صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ، بلکہ زبان ، آنکھ اور ہاتھوں کا بھی روزہ ہے، بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ جھوٹ ،لڑائی جھگڑے اور بد کلامی سے بچیں ، رمضان انہیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل کامیابی نفس پر قابو پانے میں ہے، پانچواں اہم پہلو خدمت اور ہمدردی ہے، بچوں کو بتایا جائے کہ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بنیادی ضروریات سے محروم
ہیں، افطاری کی تقسیم ، راشن کی تیاری یا کسی مستحق کی مدد بچوں کو شریک کرنا ان کے اندر احساس ذمہ داری اور انسان دوستی کو فروغ دیتا ہے، اس طرح وہ سمجھتے ہیں کہ رمضان صرف اپنی عبادت نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کا بھی نام ہے، چھٹا فریضہ وقت کی قدر کرتا ہے ، رمضان میں سحری افطار اور عبادات کے اوقات مقرر ہوتے ہیں بچوں کو ظلم و ضبط سیکھانے کا بہترین موقع ہے، اگر بچے موبائل پاٹی وی کے استعمال کو محدود کر کے عبادت اور مطالعے میں وقت گزار میں تو یہ عادت ان کی زندگی بھر ساتھ رہے گی ، ساتواں اور نہایت اہم فریضہ والدین کی اطاعت اور احترام ہے،
رمضان میں گھر کے کام کاج بڑھ جاتے ہیں، اگر بچے ماں کا ہاتھ بٹائیں بحری میں جاگ جائیں ، دستر خوان سجانے میں مدد کریں تو یہ بھی عبادت شمار ہوتی ہے، اس سے گھریلو فضا محبت اور تعاون سے بھر جاتی ہے ، آخر میں یہ کہنا بچا ہوگا کہ رمضان بچوں کے لیے تربیتی ورکشاپ کی حیثیت رکھتا ہے ، اگر اس مہینے میں بچوں کو محبت ، حکمت اور مثال کے ذریعے عبادت اور اخلاق کی تعلیم دی جائے تو یہی بچے کل معاشرے کے باکردار شہری بنیں گے ، رمضان در اصل نئی نسل کی تعمیر کا سنہری موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھا نا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،
