اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):بھارتی بحریہ کی جانب سے مشرقی بحری بیڑے کی صلاحیتوں میں توسیع اور جدید عسکری اثاثوں کی شمولیت نے جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں اسٹریٹجک توازن کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے جنگی جنون اور خطے میں بالادستی کے عزائم کے تحت بحری قوت میں تیزی سے اضافہ علاقائی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خاص طور پر چین کے
ساتھ تزویراتی مقابلے کو مزید تیز جبکہ آبنائے ملاکا اور بحیرہ عرب جیسے اہم سمندری راستوں میں کشیدگی کے خدشات کا باعث بن سکتی ہے ۔ خطے کے تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ماہرین کا مزیدکہنا ہے کہ بھارتی اقدامات چار فریقی سکیورٹی ڈائیلاگ(کواڈ)کے فریم ورک کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں اور علاقائی طاقتوں کے درمیان بتدریج سمندری مسابقت اور دشمنی بڑھ رہی ہے ۔بحری شعبے میں جوہری صلاحیتوں کی شمولیت، خصوصاً اریہانت کلاس آبدوزوں کی تعیناتی، خطے میں جوہری خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں نے واضح کیاہے کہ ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے کے باوجود بحری منصوبوں میں تاخیر جدیدیت کی ٹائم لائنز کو متاثر کر
رہی ہے۔ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار اور بجٹ کی رکاوٹیں بحری بیڑے کی توسیع کے اہداف کو محدود کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق بھارتی طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت ایک اہم ہدف بھی بن سکتا ہے، جبکہ محدود اسٹرائیک کے حامل طیارے اور آبدوز شکن جنگی صلاحیتوں میں خلا بھارت کی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرسکتی ہیں ۔مبصرین کا مزیدکہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بحری صلاحیتوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات اور سفارتکاری ناگزیر ہیں۔
