کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی) پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد جو بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان اور ہتھیار وہاں پیچھے رہ گئے، وہ اب پاکستان بالخصوص بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں میں آ چکے ہیں، اور ان کی کارروائیوں میں شدت کا باعث بنے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے نکلنے
کے بعد امریکہ نے جو عسکری سامان طالبان کی حکومت کے کنٹرول میں چھوڑا، اُس میں نائٹ وژن ڈیوائسز، جدید رائفلز، بارودی مواد، ڈرونز، کمیونیکیشن آلات اور بلٹ پروف جیکٹس شامل تھیں جن میں سے بڑی مقدار اب بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کے قبضے میں پائی گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کے متعدد واقعات میں ایسے شواہد ملے ہیں کہ حملہ آور جدید امریکی ساختہ اسلحہ اور آلات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اسلحہ نہ صرف ان کی فائر پاور بڑھا رہا ہے، بلکہ ان کی نقل و حرکت اور نشانہ بازی کی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری لا رہا ہے۔ایک سیکیورٹی اہلکار نے بلوچستان نیوز کو بتایاہم نے نوشکی، شابان ویلی اور مکران ڈویژن میں کئی آپریشنز کے دوران امریکی ساختہ M4 کاربائن،
تھرمل ڈرونز، اور کمیونیکیشن جَیمرز برآمد کیے ہیں۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو مقامی یا ایرانی ساختہ اسلحے سے کئی درجے جدید ہے۔امریکہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر براہ راست کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع (Pentagon) یہ تسلیم کر چکا ہے کہ افغانستان میں انخلاء کے دوران اندازاً 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا عسکری ساز و سامان پیچھے رہ گیا تھا۔امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ سامان افغان نیشنل آرمی کے لیے چھوڑا گیا تھا، لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اسلحہ انہی کے قبضے میں آ گیا۔بلوچستان میں سیکیورٹی حکام یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکی اسلحے کی بدولت نہ صرف دہشتگرد زیادہ منظم ہو رہے ہیں بلکہ سرحد پار سے ان کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ بھی حاصل ہیں، جو ان کے لیے خطرناک حد تک فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک سابق اہلکار کے مطابقافغانستان میں عدم استحکام کا
براہ راست اثر بلوچستان میں محسوس ہو رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پرانے طریقہ کار سے ہٹ کر اب دہشتگرد جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کے ساتھ حملے کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق، افغانستان میں غیر منظم عسکری ذخائر کی موجودگی صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔ وسط ایشیائی ممالک اور ایران پہلے ہی اپنی سرحدی پٹی پر نگرانی بڑھا چکے ہیں۔اسلام آباد میں دفاعی امور کے تجزیہ کار خرم حسین کا کہنا ہےہمیں صرف بلوچستان نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی امریکی اسلحے کے اثرات دکھائی دے سکتے ہیں۔ دہشتگرد نیٹ ورکس اس وقت سرحدوں سے ماورا ہو چکے ہیں۔
