• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

کاک ٹیل: شراب، انکار اور ہماری سماجی حقیقت

تحریر: اشرف خان

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 13, 2026
in پاکستان
0
کاک ٹیل: شراب، انکار اور ہماری سماجی حقیقت
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سندھ اسمبلی کی جانب سے صوبے میں شراب پر مکمل پابندی کی قرارداد کو مسترد کیے جانے کے بعد کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اس وقت، جب سندھ شدید نوعیت کے سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، اچانک شراب کے خلاف قرارداد لانے کا مقصد کیا تھا؟صوبہ اس وقت بدترین گورننس، لاقانونیت، بدامنی، معاشی زبوں حالی، بے روزگاری، پانی کی قلت، کراچی کے انفراسٹرکچر کی تباہ حالی اور بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں شراب کے خلاف قرارداد پیش کرنا نہ صرف ترجیحات کی غلطی بلکہ ایک سیاسی چال (ploy) بھی محسوس ہوتی ہے۔اگر ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو دیکھا جائے تو اس کی اصل ذمہ داری شہری سندھ خصوصاً مہاجر آبادی کے مسائل کو اجاگر کرنا، کراچی کے بنیادی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم، شہری انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، روزگار اور امن و امان جیسے موضوعات پر قانون سازی اور قراردادیں لانا ہے۔ ایم کیو ایم نہ کوئی مذہبی جماعت ہے اور نہ ہی کوئی سماجی اصلاحی تحریک، جس کی تاریخ میں اس نوعیت کی مذہبی اصلاحات شامل ہوں — سوائے شہر بھر میںجھاڑو پھیرنے کے’۔’کراچی کے مسائل پر نظر ڈالیں تو خاص طور پر نوجوانوں میں منشیات کا پھیلاؤ ایک خوفناک بحران بنتا جا رہا ہے۔ تعلیمی ادارے ہوں، سماجی محفلیں ہوں یا گلی محلے — ہر جگہ منشیات کھلے عام دستیاب ہیں۔ چرس تو اب معمول بن چکی ہے، اور کئی علاقوں میں اس کا استعمال ایسے ہو رہا ہے جیسے سگریٹ پینا۔ اس سنگین مسئلے پر نہ کوئی بھرپور قرارداد آتی ہے، نہ سنجیدہ قانون سازی۔جہاں تک شراب کا تعلق ہے، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ خود ایم کیو ایم کے کئی رہنما اسے شوق سے استعمال کرتے رہے ہیں، جسے وہ خوش ذوقی سے "ہیپی آورز” کا نام دیتے ہیں۔ کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے شراب کے کاروبار پر تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی، جس کا لنک اس بلاگ کے آخر میں موجود ہے۔ اس رپورٹ میں استعمال کیا گیا ایک جملہ آج بھی حقیقت کی تلخ تصویر پیش کرتا ہے:”Drinking and denying it is the oldest cocktail in the country.”
(شراب پینا اور اس کا انکار کرنا اس ملک کی قدیم ترین کاک ٹیل ہے)پاکستان میں شراب پر پابندی ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے نافذ ہے، جبکہ غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ایک محدود کوٹہ رکھا گیا ہے۔ مگر ایک ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ اس کوٹے کا تقریباً 90 فیصد فائدہ مسلمان اشرافیہ اٹھا رہی ہے۔
اس قرارداد کا متن درج ذیل ہے”یہ ایوان حکومتِ سندھ سے سفارش کرتا ہے کہ صوبہ سندھ میں شراب کی فروخت، خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے، سوائے غیر مسلم اقلیتوں کے لیے موجود آئینی و قانونی کوٹے کے۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ شراب سماجی برائیوں، اخلاقی انحطاط اور خاندانی نظام کی تباہی کا باعث بنتی ہے، لہٰذا اس پر مکمل پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔”یہ بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں شراب وہ سماجی تباہی نہیں پھیلاتی جیسی پڑوسی ملک بھارت میں دیکھنے میں آتی ہے۔ بھارت کی کئی ریاستوں میں شراب مکمل طور پر ممنوع ہے، جن میں بہار، گجرات، ناگالینڈ، میزورم اور لکشدیپ شامل ہیں۔ ان ریاستوں میں شراب پر پابندی کی بنیادی وجہ گھریلو تشدد، سنگین جرائم، مارپیٹ، قتل اور سماجی بگاڑ کو کنٹرول کرنا تھا۔اعداد و شمار کے مطابق صرف بھارت میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ سے زائد افراد شراب سے جڑے تشدد اور حادثات کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ 40 فیصد سے زائد گھریلو تشدد کے واقعات میں شراب براہِ راست شامل ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں نہ تو ایسا کوئی مستند ڈیٹا موجود ہے اور نہ ہی روزمرہ مشاہدہ اس سطح کی سماجی تباہی کو ظاہر کرتا ہے۔ہاں، یاد آیا، حال ہی میں ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ اپنے وائس چانسلرانا انگریزی میں اساتذہ کو تعلیم دے رہا ہے۔لیکن کیا کوئی اس بات کا ذمہ شراب کو دے گا، یا وائس چانسلر کے پچاس، پچپن سالہ شاندار تعلیمی پس منظر کو؟ایسے میں یہ سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا یہ قرارداد محض ایک سیاسی چال تھی؟کیا آنے والے دنوں میں اسے کسی بڑے سیاسی بیانیے، دباؤ، سودے بازی یا نئی صف بندی کے لیے استعمال کیا جائے گا؟یہ سب سوالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی کی یہ قرارداد کسی اصلاحی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی مفاد، میڈیا توجہ اور عوامی جذبات کو بیک سمت دینے کی ایک کوشش تھی یا یہ محض ایم کیو ایم کی بے معنی سیاست کا ایک تسلسل ہے۔۔اب یہ طے کرنا کہ یہ معاملہ آگے چل کر کس سمت جاتا ہے، اور آیا اسے کسی بڑے سیاسی کھیل کا حصہ بنایا جاتا ہے یا نہیں — یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔کیا آنے والے دنوں میں اسے کسی بڑے سیاسی بیانیے، دباؤ، سودے بازی یا نئی صف بندی کے لیے استعمال کیا جائے گا؟یہ سب سوالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی کی یہ قرارداد کسی اصلاحی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی مفاد، میڈیا توجہ اور عوامی جذبات کو ایک سمت دینے کی ایک کوشش تھی یا یہ محض ایم کیو ایم کی بے معنی سیاست کا ایک تسلسل ہے۔۔
یہ معاملہ آگے چل کر کس سمت جاتا ہے، اور آیا اسے کسی بڑے سیاسی کھیل کا حصہ بنایا جاتا ہے یا نہیں — یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن اتنا طے ہے کہ سندھ کے عوام کو اس وقت شراب پر بحث نہیں، روزگار، تحفظ، انصاف اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔

پچھلی پوسٹ

غزہ امن بورڈ اور دیگر ادارے کس طرح کام کریں گے یہ ابھی تک واضح نہیں،ترجمان حماس

اگلی پوسٹ

پاکستان بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تجارتی، دفاعی، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی فورمز میں تعاون کو مضبوط کرنے کےلئے کام کرنے کا منتظر ہے، صدر آصف علی زرداری کی بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تجارتی، دفاعی، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی فورمز میں تعاون کو مضبوط کرنے کےلئے کام کرنے کا منتظر ہے، صدر آصف علی زرداری کی بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد

پاکستان بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تجارتی، دفاعی، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی فورمز میں تعاون کو مضبوط کرنے کےلئے کام کرنے کا منتظر ہے، صدر آصف علی زرداری کی بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper