کراچی ( کرائم رپورٹرکراچی کے علاقے تھانہ جیکسن کی حدود جرائم پیشہ افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور عام شہریوں کے لیے میدان جنگ بن گئی۔ پولیس کی مبینہ غفلت اور مجرمانہ خاموشی کے باعث ہونے والے ایک خونی تصادم میں دو سگے بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے جبکہ پولیس روایتی طور پر جائے وقوعہ سے غائب
رہی۔ذرائع کے مطابق تھانہ جیکسن کی حدود میں نامعلوم مسلح افراد کے درمیان ہونے والے شدید تصادم نے اس وقت المیہ کی شکل اختیار کر لی جب اندھادھند فائرنگ کی زد میں آکر دو سگے بھائی جاں بحق ہو گئے۔ مقتولین کی شناخت 24 سالہ سرتاج اور 20 سالہ کامران پسران ممتاز خان کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں نوجوانوں کی لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جہاں ورثاء کی چیخ و پکار نے ہر آنکھ پر نم کر دی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات فروشوں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں پولیس کی ناک کے نیچے جاری ہیں، لیکن کارروائی کے بجائے انتظامیہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایس ایچ او کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ تھانے کی حدود میں سرِعام اسلحہ لہرایا جاتا ہے مگر قانون حرکت میں نہیں آتا۔واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کاروباری زندگی معطل ہو گئی۔ عوامی حلقوں نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ساؤتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ نااہل ایس ایچ او کو فوری معطل کر کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں تاکہ بے گناہ خون بہانے والے قانون کی گرفت میں آ سکیں۔

