جاوید عالم اوڈھو اس وقت سندہ پولیس میں انسپیکٹر جنرل کے عھدے پر فائزھیں، ویسے تو اس عھدے پر کئی اور آئی جی مقرر ھوئے مگر ان پر لکھنے کی ضرورت محسوس نھیں کی، کیوں کہ وہ صرف نوکری کرنے والے سرکاری ملازم تھے مگر جاوید عالم اوڈھو سرکاری آفیسر کے ساتھ اپنے قبیلے کے سردار بھی ھیں، ھمارے سماج میں اقتداری نظام چلانے والے دو اھم لوگ ھیں ایک سرکاری افسران دوسرے سردار، جاگیردار، لوگ جوکہ منتخب ھوکر یا بنا کسی ووٹ حاصل کرنے کے وہ بااثر ھوتے ھیں۔ سرکاری افسر کو سماج کے اندر باریک بینی والے معاملات کی گھرائی کا زیادہ پتا نھیں ھوتا وہ صرف اسٹاف کی بریفنگ پر چلتے ھیں۔ لیکن سردار اپنے لوگوں کی، علائقے اور حالات سے اچھی طرح واقف ھوتے ھیں۔ ان کو لوگوں کی حرکتوں، اٹکلبازی، جھوٹ، ڈرامے بازی، گمراھ کرنے والی زبان اندازی، سسٹم سے فائیدہ لینا اور سسٹم کو اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرنے کے تمام انداز سے واقف ھوتے ھیں، اپنے علائقے کے سلطان ھوتے ھیں، یہ کہنے میں کوئی ھرج نھیں کہ وہ ریاست کے اندر چھوٹی ریاست کے مانند ھوتے ھیں اس لیئے وہ تمام خطرات وہ حادثات سے اچھی طرح واقف ھوتے ھیں۔آئی جی سندہ کا عھدہ سنبھالنے کے بعد آج ان کی پہہلی پریس بریفنگ تھی، میں نے تمام بریفنگ آخر تک سنی اور دیکھی، ایک تجزیہ نگار اور تبصرہ نگار کی حیثیت سے تمام معاملات کو ھر رخ سے دیکھا تو یہ ایک منفرد بریفنگ لگی کیوں کہ ماضی میں آئی جی کے عھدے پر مقرر دیگر افسران کے الفاظ لھجے سوچ اور انداز گفتگو کو گہرائی سے دیکھ چکا ھوں، اپنے لھجے الفاظ سوچ اور گفتگو میں ایک اچھی امید نظر آئی کہ وہ ادارے میں موجود کالی بھیڑوں اور ادارے کے وقار کو داغدار کرنے والوں کو اپنے منتقی انجام تک پہنچانے کا مضبوط ارادہ رکھتے ھیں، وہ پوچھے گئے سوالات پر اپنے ادارے سے منسلک لوگوں کا دفاع کرنے کے بجائے حقائق پر گفتگو کی اور جس جس کا جتنا قصور نظر آیا اس پر اتنی گفتگو کی۔ میں سمجھتا ھوں کہ یہ سندھ پولیس کی خوش قسمتی ھے کہ ان کو ایک اچھا ذمیدار اور نسلی خالص سپھ سالار ملا ھے جس کے لیئے بڑے چئلینجز بے معنئ ھیں اور وہ اپنی قابلیت اور سماجی علم کے ذریعے دیگر افسران سے زیادہ بھتر طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ھیں۔ کچے اور پکے کے دونوں اندرونی و بیرونی چالیں خوب جانتے ھیں ان کو سب پتا ھے، اس لیئے وہ لوگ بھی رگڑے جائیں گے جو عرصے دراز سے ھر قسم کے ناجائز مزے لوٹتے رھے ھیں۔ کیوں کہ سردار کع حساب کتاب رکھنا خوب آتا ھے۔پریا کماری سے لے کر مبینہ پولیس مقابلوں کی حقیقت اور بااثر لوگوں کے ھاتھوں مظلوموں غریب لوگوں کے قتل ناانصافی پر پولیس کو قانون پر عمل کرانے کے لیئے عوامی ھجوم اور دھرنوں کی ضرورت پڑنے نھیں دیں گے، عوام کی خواھش پر قانون کی عملداری کو آسان بنائیں گے۔

