لاہور( نمائندہ خصوصی)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دھاندلی زدہ انتخابات کو دوسال مکمل ہوگئے، حکومت عوامی تائید سے مکمل طور پر محروم ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری بدامنی کی لہر انتہائی تشویش ناک ہے۔منصورہ میں ملک بھر سے آئے اراکین مرکزی مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کے دوران امیر جماعت کا کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی عناصر ملک میں انتشار کی وجہ ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ہے۔ حکمرانوں کو دہشت گردی کے ناسور کے خاتمہ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ حکمرانوں کو ٹرمپ کی خوشنودی کی بجائے ملک و قوم کے وقار اور آزادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ مشرف نے پاکستان کو امریکی جنگ میں دھکیلا جس کا خمیازہ قوم آج تک
بھگت رہی ہے، موجودہ حکمرانوں نے بھی وہی راستہ اختیار کرلیا ہے، یہ چلے جائیں گے قوم مزید نتائج بھگتے گی۔ بہتری کے لیے فرسودہ نظام اور اس کے رکھوالوں کو رخصت کرنا پڑے گا، اجتماع عام سے بدل دو نظام تحریک کا آغاز کیا، مقاصد کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں تحریک چلا رہے ہیں، عید کے بعد آئی پی پیز کے خلاف بھی تحریک کا ازسرِ نو آغاز ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے ایک دفعہ پھر واضح کیا کہ جماعت اسلامی حکومت کی ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ یہ نام نہاد امن بورڈ دراصل اقوام متحدہ کے متوازی ادارہ ہے، امریکی صدر دنیا میں نو آبادیاتی نظام کی بحالی کے راستے پر گامزن ہے، واشنگٹن اسرائیل کا مکمل پشت پناہ اور حماس کو غیر مسلح کرکے اہل فلسطین کا حق دفاع بھی چھیننا چاہتا ہے، پاکستانی فوج اگر غزہ جاتی ہے تو اسے چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ کے اقدامات اور خواہشات کو تسلیم کرنا ہوگا، لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ حکمران ایسے اقدامات سے باز رہیں جو قوم کے وقار کے منافی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی پالیسی قابل ستائش اور دنیا کی تمام اسلامی و مزاحمتی تحریکوں کے لیے مثال ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے غزہ بورڈ میں شمولیت نہ کرنے سے متعلق مولانا فضل الرحمن کے موقف کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جے یوآئی کے سربرہ کو فون کیا ہے، ان سے جلد ملاقات بھی ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن نے وادی تیراہ کی صورت حال پریشان کن قرار دیا اور حکمرانوں سے سوال کیا کہ کیا عوام کو وہاں سے نکالنے کے بعد دہشت گرد وہاں بیٹھے رہیں گے جن کیخلاف آہریشن ہوگا۔؟مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ انہوں نے پنجاب میں سرکاری سکولوں کی نج کاری کی مخالفت جاری رکھنے کا اعلان کیا اور صوبہ کے کسان، مزدور اور دیگر مظلوم طبقات کو جماعت اسلامی کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام کی آواز اٹھانے پر جماعت اسلامی کراچی کی جدوجہد کی تحسین کی۔ امیر جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن کے زی-کنیکٹ اور بنوقابل پروگرام کو بھی سراہا اور کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کی بہتری کے اقدامات جاری رکھے گی اور انہیں ساتھ ملا کر ملک میں حقیقی تبدیلی لائے گی۔

