لاہور( نمائندہ خصوصی):-وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر لاہور میں بسنت کے موقع پر بہترین میڈیکل کور دینے کی حکمت عملی طے کرلی ہے – صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محفوظ بسنت کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں اہم اجلاس منعقد ہوا – اجلاس میں سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود بھی موجود تھے – سپیشل سیکرٹری آپریشنز نبیلہ عرفان، ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر حافظ محمد وسیم، ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن خدیجتہ الکبریٰ، ایڈیشنل سیکرٹری امیر محمد، ڈائریکٹر مانیٹرنگ عتیق الرحمن، ڈپٹی سیکرٹری تانیہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالمتین جنجوعہ نے شرکت کی -ایم ڈی چلڈرن ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ایم ایس پنجاب انسٹی ٹیوٹ
آف کارڈیالوجی ڈاکٹر عامر رفیق بٹ، ایم ایس گنگارام ہسپتال ڈاکٹر عارف افتخار، ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹر سید محسن علی شاہ، ایم ایس جنرل ہسپتال ڈاکٹر فریاد حسین، ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان، ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر عمران زیدی، ایم ایس سید مٹھا ہسپتال ڈاکٹر عقیل، ایم ایس پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز ڈاکٹر عمر اسحاق، ایم ایس شاہدہ ہسپتال ڈاکٹر مامون اکبر قریشی، ایم ایس لیڈی ایچیسن ولنگڈن ہسپتال ڈاکٹر فرح، ایم ایس لیڈی ایچیسن ہسپتال ڈاکٹر صوبیہ، ایم ایس ڈی ٹل ہسپتال ڈاکٹر بختیار، ایم ایس یکی گیٹ ہسپتال ڈاکٹر ریاض، ایم ایس کوٹ خواجہ سعید ہسپتال عدنان قمر و دیگر ٹیچنگ ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان نے شرکت کی – اجلاس میں ریسکیو 1122 و دیگر حکام نے بریفنگ دی –
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ لاہور میں بسنت کے موقع پر ہسپتالوں میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں -بسنت کے دوران ممکنہ حادثات کے پیش نظر تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حاضری یقینی بنائی جائے اور ایمرجنسی وارڈز کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے-ہسپتالوں میں اضافی وسائل فراہم کر دیے گئے ہیں، جن میں ضروری ادویات، سرجیکل سامان، خون کی دستیابی اور ایمبولینس سروسز شامل ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے-انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مریضوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام انتظامات کی مسلسل نگرانی کی جائے-صوبائی وزیر صحت نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بسنت کے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور قانون کی پابندی کو یقینی بنائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے-لاہورکے 13 سرکاری اسپتالوں میں 6 سے 8 فروری تک میڈیکل،نرسنگ،پیرامیڈیکل اسٹاف، ادویات، ڈرپس، ویکسین و سرجیکل سامان کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی-
خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ بلڈ بیگس اور خون عطیہ کرنے والے افراد کی فہرست بھی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے-بسنت کے لئے ہسپتالوں میں بیڈز مختص کئے جائیں گے جبکہ ایکسرے، الٹراساوند، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشین کو فنکنشل رکھا جائے گا-تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں 1200 سے زائد ریسکیوئرز، 56 ایمبولینسز، 24 فائر وہیکلز جبکہ 300 ریسکیو موٹر بائیکس اہم مقامات پر متعین ہوں گی-بسنت کے دوران ریسکیو 1122 بھی ہائی الرٹ ہو گی-اندرون شہر، مزنگ، اچھرہ، شاد باغ اور داتا دربار میں بھی خصوصی ریسکیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی-کسی بڑی ایمرجنسی کی صورت میں رسپانس کرنے کیلئے قریبی اضلاع سے فوری بیک اپ کیلئے ریسکیو ٹیمیں دستیاب ہوں گی-سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ 6 سے 8 فروری کے درمیان ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان، ڈاکٹرز، نرسز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے-محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بسنت کے پیش نظر شہر کے 13 اسپتالوں کو پہلے ہی الرٹ جاری کر چکا ہے-
