لاہور کے بھاٹی گیٹ میں جو ہوا وہ انتظامیہ کی ایک ایسی لاپرواہی ہے جس کی قیمت ایک 24 سالہ ماں سعدیہ اور اس کی 10 ماہ کی بیٹی ردا کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔ یہ حادثہ صرف اس لیے پیش آیا کیونکہ ایک گہرے مین ہول کو کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس مین ہول کو ڈھانپنے کی زحمت پہلے نہیں کی گئی، اسے حادثے کے فوراً بعد باڑ لگا کر کور کر دیا گیا۔ اس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ انتظامیہ کو وہاں موجود خطرے کا پہلے سے اندازہ تھا، مگر انہوں نے بروقت اقدامات نہیں کیے۔ اگر یہ معمولی سی باڑ چند گھنٹے پہلے لگا دی جاتی تو دو زندگیاں بچ سکتی تھیں۔
اس معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ردعمل بہت ٹھوس اور قابلِ ستائش رہا۔ انہوں نے اسے محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں مانا بلکہ اسے "قتل” قرار دیا اور واضح کیا کہ عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات میں سستی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایک خاتون اور ایک حساس دل رکھنے والی حکمران کے طور پر مریم نواز نے جس جرات کا مظاہرہ کیا، اس نے ثابت کر دیا کہ وہ عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔ انہوں نے روایتی طریقے سے انکوائری کمیٹیوں کا انتظار کرنے کے بجائے فوراً کارروائی شروع کی اور 24 گھنٹوں کے اندر پراجیکٹ ڈائریکٹر، مینیجر اور سیفٹی انچارج سمیت پانچ بڑے سرکاری افسران کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دو ملازمین کو نوکری سے نکال دیا گیا اور ٹھیکیدار کمپنی کے مالکان کو بھی جیل بھیج دیا گیا۔ مریم نواز نے یہ ثابت کیا کہ جب اقتدار ایک حساس اور باہمت خاتون کے پاس ہو تو نظام کو اسی طرح تیزی سے حرکت میں آنا چاہیے۔
مریم نواز کے حکم پر اب پنجاب میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے نئے اور سخت قوانین بھی نافذ کر دیے گئے ہیں، جن میں سیف
سٹی کیمرے اور روشنی کا انتظام لازمی قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف اگر ہم اپنے پورے سسٹم کا جائزہ لیں تو سندھ کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ وہاں بھی آئے دن ایسے حادثات ہوتے ہیں لیکن وہاں کا نظام کبھی اس طرح جوابدہ نظر نہیں آیا۔ ہم اپنے وزیر اعلیٰ کو بھی مریم نواز کے اسی مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی میدان میں نکلیں اور لاپرواہی کرنے والوں کا اسی طرح احتساب کریں تاکہ پورے ملک میں عدل و انصاف پھیلے۔ مریم نواز کے اس ایکشن نے سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب لاپرواہی کا مطلب جیل ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سختی برقرار رہے تاکہ مستقبل میں کسی اور کا گھر نہ اجڑے۔

