کراچی (آغاخالد)سکھوں کی عالمی تنظیم “جسٹس آف پیس” نے الزام لگایا ہے کہ انڈین حکومت نے مشرقی پنجاب میں ایک ہفتے کے دوران وحشیانہ آپریشن میں 8000 ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیاہے آزادی کی تحریک دبانے کے لیے گرفتار شدگان پر فوج کے ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز سلوک کیا جارہاہے جسٹس آف پیس کے جنرل سیکریٹری سردار گوبندر سنگھ نے آج جمعرات
29 جنوری 2026 کی شام امریکہ سے وڈیو کال پر کراچی پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کان فرنس سے خطاب کرتے ہوے کہاکہ سکھوں نے مشرقی پنجاب کی آزادی کے لیے گزشتہ نصف صدی میں ڈیڑھ لاکھ جانوں کی قربانی دی ہے اور وہ مصمم ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم لوگ جلد بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرلیں گے اس کے لیے انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ
کیاکہ انہیں بھی غزہ بورڈ میں شامل کیاجائے جس کے لیے سکھ برادری بورڈ میں ایک ارب ڈالر فنڈ دینے کو تیار ہے سردار گوبندر سنگھ نے کہا کہ ان کی تنظیم پر امن بقائے باہمی پر کار بند ہے اور و ہ تشدد کو مسترد کرتے ہوے بھارتی فوج اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کا پُرامن جدو جہد سے مقابلہ کرہی ہے انہوں نے ایک سوال پر کہاکہ بھارتی حکومت نے ہمارے دو سے زائد اہم
رہنمائوں کو امریکہ اور کینیڈا میں قتل کیا جس کے کچھ ملزمان وہاں کی پولیس نے گرفتار کیے ہیں تاہم اصل ملزمان بھارت میں چھپے ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک مذہبی جنونی امن دشمن ریاست ہے جس کی اپنے تمام پڑوسیوں سے لڑائی ہے جبکہ بھارتی پنجاب کی آزادی سے یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بفر اسٹیٹ ہوگی جس سے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کے امکانات مزید کم ہوسکیں گے۔

