کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ)پانی چوروں کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے گی، کراچی کے لائنوں سے پانی چور ی میں ملوث واٹر کارپوریشن کے اہلکاروں اور افسران کے اندر کالی بھیٹروں کے خلاف یکساں کاروائی کی جائے گی،اس حوالے سے بنائے گئے ٹربیونل نے کام شروع کردیا ہے۔ پانی چوروں کے خلاف واٹر کارپوریشن ایکٹ 2023ء سے اب تک درج مقدمات از سر نو ٹریبونل میں پیش کیا جائے گا۔ ٹربیونل نے کراچی کے تمام اضلاع کی عدالتوں میں زیر سماعت تمام کا مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے، یہ بات میئر کراچی مرتضی وہاب نے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں اور واٹر کارپوریشن کی کالی بھیٹروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔کراچی کی لائنوں سے پانی چوری سنگین جرم ہے ان میں ملوث ادارے کے ملازمین کے کردار کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ایک سابق چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ کارپوریشن ایکٹ میں بورڈ کے چیئرمین، ارکان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر، چیف آپریشن آفیسر کے ساتھ تمام افسران اور ملازمین کو استثنا حاصل ہے۔ ٹربیونل ادارے کے کسی ملازم
کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جس سے ٹربیونل میں ادارے کے ملازمین کے سلسلے میں یہ ایک سوال کھڑا کردیا گیا ہے،
تفصیالت کے مطابق واٹر کارپوریشن ایکٹ کے نفاذ کے تین سال بعد کارپوریشن کے خصوصی ٹربیونل کا افتتاح چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے دو روز قبل 26جنوری 2026 کو کیا تھا۔ واٹر کارپوریشن کے تھانے کا قیام چار ماہ قبل عمل میں آچکا ہے مبینہ طور پر ٹربیونل کے قیام کے دوران 8مقدمات درج ہوچکے ہیں اور ملوث کئی افراد کی ضمانت بھی دے دی گئی ہے،اور ٹربیونل نے کراچی کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز صاحبان کو خطوط کے ذریعے تمام مقدمات کی فائلیں طلب کرنے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ واٹر کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے پانی و سیوریج کے ماہرین کی تقرری ہوچکی ہے، نئی تقرری پر چیئرمین نے بعض اعتراضات کئے تھے جنس کی وجہ سے ماہرین میں یوسف بلوچ پانی کے ماہر اور سیوریج کے ماہر بشیر بلوچ کی تقرری کا معاملہ کٹھائی میں پڑ گیا ہے۔ اس سے قبل ریٹائرڈ افسران میں اکرم بلوچ پانی اور غلام عباس سیوریج کے ماہر کی حیثیت سے تقرری کی گئی تھی تمام تقرریاں سیاسی بنیاد پر تھی اور واٹر کارپفوریشن کے (سیاسی)بورڈ نے حکومت سندھ کو الگ الگ خطوط میں تقرری کرنے کی سفارش کی تھی،مبینہ طور پر ٹریبونل میں اب عملے کو سیاسی سفارش پر تعینات کردیا گیا ہے۔۔کارساز میں واٹر کارپوریشن کے بلاک بی کو ٹربیونل بلاک قرار دیدیا گیا ہے،ٹریبونل کے ساتھ دو ماہرین کے کمرے الاٹ ہوچکے ہیں،ٹریبونل کے رجسٹرار کی تقرری کردی گئی ہے۔ٹریبونل پانی چوروں کے خلاف 30 دن میں اپنا فیصلہ کرے
گا۔ ٹریبونل، CPC، 1908ء اورفوجداری دفعہ 1898ء کا قانون استعمال کر سکے گا اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی سفارش پر پانی و سیوریج کے واجبات کی وصول کے مقدمات کی سماعت بھی کرے گا۔ ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کرسکیں گے۔واٹر کارپوریشن،ملک کا واحد ادارہ بن گیا ہے جہاں بورڈ کے چیئرمین،ارکان،چیف ایگزیکٹیو آفیسرسیمت تمام عملے کو ٹربیونل میں جرائم سے استثناء دیدیا گیا ٹریبونل کو بورڈ کے چیئرمین، ارکان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر، سمیت کارپوریشن کے عملے کے خلاف کاروائی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ واٹر کارپوریشن کے پانی چور اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی نہیں ہو گی۔ ادارے میں جرائم پیشہ افراد کو ٹربیونل سے استثناء دیدیا گیا جو انتہائی افسوسناک اور شرمناک اقدام ہے۔ذرائع کے مطابق پانی چوروں کے خلاف ایک سال کے دوران سو کے لگ بھگ مقدمات درج ہوئے، اور 16 افراد کے نام ملزمان میں شامل کیئے گئے تھے لیکن کمزور کیس کی وجہ سے تمام ملزمان باعزت بری ہوچکے ہیں، تاہم ٹریبونل تھانے کے قیام کے باوجود پانی چوروں کے خلاف تاحال قید و بند کی سزا کا خوف بھی نہ ہوسکا کیونکہ کراچی میں پانی چور طاقتور مافیا بن چکے ہیں اور انہیں کسی کا خوف نہیں ہے(انہیں معلوم ہے نے کی حمایت بڑے گھر والے کر رہے ہیں)اسی لیئے شہریوں کا پانی چوری کرنے کا گھناؤنا کاروبار جاری ہے ۔ واٹر کارپوریشن کے اینٹی تھیفٹ سیل اور سب سوئل ڈپارٹمنٹ پانی چوروں کے سرپرست اور سہولت کار بن چکے ہیں اور انہیں
مبینہ طور پر واٹر کارپوریشن کے اعلی حکام اور حسب معمول سندھ حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اسی لیئے مبینہ طوور پر دونوں ادارے کے قیام سے اب تک رشوت،کمیشن اور کک بیک لینا کا سلسلہ جاری ہے، کارپوریش کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر احمد علی صدیقی بھی اینٹی تھیفٹ سیل اور سب سوئل واٹر سیل کی حالیہ کارکردگی سے قطعی مطمئن نہیں ہیں اور سب سوئل کے لائسنس 70 کمپنیوں کا دیئے گئے ہیں تاہم درجنوں کمپنیاں سب سوئل پر بلا اجازت کام کررہی ہیں،تاہم 53 لائسنس کی درخواستیں تعطل کا شکار ہیں اور ان کے لاکھوں روپے بھی پھنس چکے ہیں۔ مبینہ طور پر ایک بھی سب سوئل کے کارندے کو نہ پکڑا گیا نہ مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت پانی چوروں کو ادھے انچ، پونے، ایک انچ، دو تین سے زائد پائپ سے چوری پر جرمانے اور ٹیکس کی بھی ادائیگی کرنا تھی اور جتنے بڑے پائپ لائن سے پانی چوری کیا جارہا ہے ان کے کنکشن چارجز کے ساتھ ٹیکس بھی وصول کیا جائے گا۔ٹربیونل پانی چوروں پر جرمانے کے علاوہ قید و بند و جرمانے کی سزائیں بھی دے سکتا ہے یا دونوں سزائیں بھی بیک وقت دے سکتا ہے۔
