• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

پنجاب کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے طبّی عملے کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی:حکومت وسائل دے، کارروائی کی دھمکی نہیں‘

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 26, 2026
in پاکستان
0
پنجاب کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے طبّی عملے کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی:حکومت وسائل دے، کارروائی کی دھمکی نہیں‘
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

لاہور (ترہب اصغر بی بی سی اردو ڈاٹ کام نمائندہ خصوصی)پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دو روز قبل اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ ’پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والا عملے اور ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘انھوں نے مزید لکھا کہ ’مریضوں کا وقت اور ان کی دیکھ بھال ڈاکٹروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ میری ٹیم ہسپتالوں کے اچانک دورے کرے گی اور اگر کوئی موبائل فون استعمال کرتا ہوا پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘یاد رہے کہ تقریبا تین ہفتے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ نرسوں اور ہسپتال عملے کو باڈی کیم لگائے جائیں گے جبکہ ڈاکٹرز اور ہسپتال عملے پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی جائے گی۔مریم نواز کے اس پیغام کے بعد سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کمیونٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ دوسری جانب عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس فیصلے پر ملا جلا ردِ عمل دیا۔

مریم کی ٹوئٹ

اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) پنجاب کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب کا کہنا تھا کہ ’دینا بھر میں ایسی مثال نہیں ملتی ہے اور جہاں ایسی پابندیاں ہیں وہاں حکومت وسائل بھی دیتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’ایسا فیصلہ لینے سے پہلے کسی سٹیک ہولڈر سے بات یا مشورہ نہیں کیا گیا، نہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اس فیصلے کے نقصانات کیا ہو سکتے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم مانتے ہیں کہ حکومت اگر ہسپتالوں کے معاملات بہتر کرنا چاہتی ہے تو اس کے بہت سے اور طریقے بھی ہیں۔ ہم موبائل فون کا استعمال اپنے کام کے لیے کرتے ہیں اور اگر کوئی ایسا ڈاکٹر یا عملہ ہے جو دوران ڈیوٹی موبائل ٹک ٹاک یا کسی اور سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے تو اسے بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔‘’حکومت ڈاکٹرز کو وسائل دے نہ کہ ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے جو اپنے وسائل سرکاری کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘ایک اور ڈاکٹر ڈاکٹر ابتحاج علی نے اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی ہمارے پاس کمیونیکیشن کے مسائل رہتے ہیں۔ جیسا کہ جب کوئی مشکل کیس ایمرجنسی میں آتا ہے تو اس مریض کا علاج وہاں موجود ڈاکٹر اکیلا نہیں کرتا ہے۔ ہمیں دوسرے شعبوں میں کال بھیج کر ڈاکٹرز کو بلانا پڑتا ہے یا پھر ان سے مشورہ کرنا پڑتا ہے جس کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں کوئی ڈیجیٹل نظام موجود نہیں ہے۔‘انھوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کاغذ پر لکھ کر کال بھیجی جاتی ہے یعنی کے ایک بندہ پیدل دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جاتا ہے، کال تلاش کرتا ہے اور وہاں سے جا کر ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہے۔ جس میں بہت وقت لگ جاتا ہے جو مریض کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق ’دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے فون سے سینیئر ڈاکٹرز یا ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹرز سے ان کے نمبر پر رابطہ کرتے ہیں اور ان سے مشورہ کرکے علاج اور ادویات کے بارے میں مشورہ لے کر علاج شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم لوگوں کو ٹیسٹ کے لیے لیب بھیجتے ہیں تو کاغذی رپورٹ آنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ اس لیے ہم لیبز والوں سے ڈیجیٹل رپورٹ منگوا لیتے ہیں اس سے وقت بچ جاتا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس سرکاری ہسپتالوں میں وسائل کی کمی ہے جیسا کہ ڈیجیٹل نظام کا نہ ہونا۔ ایکسرے فلمز کی کمی جس کی وجہ سے ریڈیولوجی والے بھی ہمارے نمبر پر ہی رپورٹ بھیج دیتے ہیں۔‘دنیا کے جن ممالک میں ڈاکٹرز کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی ہے وہاں ریاست انھیں سرکاری فون، لیپ ٹاپ، ایپلیکیشنز اور ڈیٹا بیس بنا کر دیتی ہے تاکہ دوران ڈیوٹی وہ ماڈرن میڈیکل طریقوں اور علم کا استعمال کر سکیں۔انھوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کاغذ پر لکھ کر کال بھیجی جاتی ہے یعنی کے ایک بندہ پیدل دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جاتا ہے، کال تلاش کرتا ہے اور وہاں سے جا کر ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہے۔ جس میں بہت وقت لگ جاتا ہے جو مریض کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق ’دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے فون سے سینیئر ڈاکٹرز یا ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹرز سے ان کے نمبر پر رابطہ کرتے ہیں اور ان سے مشورہ کرکے علاج اور ادویات کے بارے میں مشورہ لے کر علاج شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم لوگوں کو ٹیسٹ کے لیے لیب بھیجتے ہیں تو کاغذی رپورٹ آنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ اس لیے ہم لیبز والوں سے ڈیجیٹل رپورٹ منگوا لیتے ہیں اس سے وقت بچ جاتا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس سرکاری ہسپتالوں میں وسائل کی کمی ہے جیسا کہ ڈیجیٹل نظام کا نہ ہونا۔ ایکسرے فلمز کی کمی جس کی وجہ سے ریڈیولوجی والے بھی ہمارے نمبر پر ہی رپورٹ بھیج دیتے ہیں۔‘دنیا کے جن ممالک میں ڈاکٹرز کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی ہے وہاں ریاست انھیں سرکاری فون، لیپ ٹاپ، ایپلیکیشنز اور ڈیٹا بیس بنا کر دیتی ہے تاکہ دوران ڈیوٹی وہ ماڈرن میڈیکل طریقوں اور علم کا استعمال کر سکیں۔ڈاکٹر احمد ریحان کے مطابق ’ادویات کی خوراکوں، تعاملات اور ضمنی اثرات کی جانچ کرنے سے لے کر علاج کے تازہ ترین رہنما خطوط کا جائزہ لینے تک، اپ ڈیٹ ڈیٹ جیسے پلیٹ فارم کا استعمال، طبی مسائل کے حل کے لیے اے آئی کا فائدہ اٹھانا، فوری رہنمائی کے لیے ایکس رے، سی ٹی سکین اور ای سی جی کا اشتراک اور یہاں تک کہ پرنٹ شدہ فلموں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو سکین کے امیجز بھیجنا، مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی فلموں میں موبائل فونز کی جدید ترین فلمیں ہیں۔‘تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ’ہاں، غیر ضروری استعمال، سیلفیز، یا طریقہ کار کی تصویریں لینا ناقابل قبول ہے اور اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ براہ مہربانی اس نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کریں اور اسے واپس لیں کیونکہ اس کے جاری رہنے سے پنجاب کے ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔‘ڈاکٹر وقاص نے ایکس اکاؤنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر حکومت ہسپتالوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے تو اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پر اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤثر اور عملی متبادل فراہم کرے، جیسے کہ ہسپتال سے جاری کردہ سمارٹ فونز، آئی پیڈ، پیجرز، یا محفوظ اندرونی مواصلاتی نظام۔ فعال متبادل فراہم کیے بغیر مکمل پابندی کا نفاذ لاپرواہی ہے اور مریضوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔‘ایک صارف حسن نے اس معاملے پر لکھا کہ ’ڈاکٹرز کے لیے موبائل فون پر پابندی‘ کے بارے میں سب سے مزاحیہ بات یہ ہے کہ لاہور کا سب سے بڑا ٹرسٹی کیئر ہسپتال مریضوں کو ریڈیولوجی فلمیں فراہم نہیں کرتا اور ڈاکٹروں سے اسے فون پر واٹس ایپ کے ذریعے حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ان بیوقوف بیوروکریٹس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔‘

پچھلی پوسٹ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں جدید ترین مانیٹرنگ نظام ’’شکرا‘‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

اگلی پوسٹ

مسلم ممالک میں پراکسی وار حصہ اول

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
مسلم ممالک میں پراکسی وار حصہ اول

مسلم ممالک میں پراکسی وار حصہ اول

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper