ہر پروفیشن میں آنے والے لوگوں کی اپنی سوچ اور الگ اپروچ ہوتی ہے ۔اسی سوچ اور اپروچ کے تحت وہ پروفیشنل سرگرمیاں انجام دیتے ہیں ۔مثال کے طور پر بعض اینکر آپ دیکھیں وہ بھی پروگرام کرتے ہیں ۔ان کو پروڈیوسر سے کانٹینٹ رائیٹر تک ‛ کوآرڈینیٹر سے لیکر دیگر اسٹاف تک ملا ہوتا ہے ۔ مگر بعض اینکر ذاتی طور پر بہت فعال اور محنتی ہونے کے سبب مسلسل آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں جبکہ بعض کو لوگ مسلسل سن سن کر سمجھ گئے ہیں کہ اِس کے پاس معلومات نہیں ۔ لہذاہ لوگ اُسے نہیں سنتے ۔یہی طریقہ کار دیگر شعبہ جات میں بھی ہے ۔ صحافیوں میں بھی ایسا ہی ہے ۔ بعض صحافی ایسے ہوتے ہیں کہ ادارہ ہو یا نہ ہو ۔ وہ جہاں کھڑے ہوتے ہیں ۔ جہاں لکھتے ہیں ۔ جہاں بولتے ہیں وہ ایک صحافی ہی ہوتے ہیں ۔ وہ خبر کی تلاش میں اور رپورٹس ان کا پیچھا کرتی ہیں ۔اسلم شاہ اور شہاب کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے کہ وہ ادارے کے ہونے نہ ہونے کے باوجود خبر کی تلاش میں رہتے ہیں اور خبر کی تلاش میں محنت بھی اتنی ہی کرتے ہیں جتنی ادارے میں رہ کر کی جاتی ہے ۔ اس لیئے پریشر آنے پر چونکہ ادارہ پیچھے نہیں ہوتا اس لیئے کارروائی کرنے والوں اور مافیا کا آسان ہدف بن جاتا ہے ۔پولیس ہو ‛ این سی سی آئی اے ہو ۔ یا لوکل مافیا ہو ۔ ان کا آسان ہدف ایسے ہی صحافی ہوتے ہیں ۔ چونکہ ایسے صحافیوں کو اپنے حلقے سے بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ۔ لہذاہ تر نوالہ بننے میں لمحے لگتے ہیں ۔میرے نزدیک صحافی اور مولوی بڑے معصوم ہوتے ہیں ۔
انہیں کلف لگے کپڑے پہنے دیکھ کر بھی لوگوں کو بلکہ اِنہی کے قبیل کو ہضم نہیں ہوتا ۔ حالانکہ ہر دو کو اللہ نے عقل و فہم سے نوازہ ہوتا ہے اور وہ کسی بھی لحاظ سے محنت کرنے میں کسی کج کلاہی کا شکار نہیں ہوتے ۔ پھر وہ کیوں رزق حلال سے کلف لگے کپڑے نہیں پہن سکتے ؟شہاب سلمان پر مافیا نے حملہ کیا ۔مافیا بظاہر مضبوط ہے ۔ انہوں نے ایک ہی تھانے میں دو مقدمات درج کرائے ہیں ۔ ایک مقدمہ میں شہاب سلمان فائرنگ کر کے بھاگا ہوا لکھا ہے اور دوسرے مقدمہ میں وہ پولیس اسٹیشن میں ہے ۔ مطلب پیسے کی پاور اور مافیا کے اثر کا اندازہ کریں کہ خود پولیس کے لکھے میں تضادات نمایاں ہیں۔ شکر ہے شہاب
سلمان کے پاس اسلحہ تھا ورنہ خاکم بدہن ہم پریس کلب کے باہر پُر جوش نعرے لگا رہے ہوتے اور اس وقت سلمان کی بہادری کے قصے بیان کر رہے ہوتے ۔میری کمزوری یہ ہے کہ مجھ سے مرنے والے کے بعد تعزیت نہیں ہوتی ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر بندہ مشکل میں ہے ۔ زندہ ہے ۔ تو اس کا ساتھ دو ورنہ بعد میں ٹسوے بہانے کی منافقت نہیں کرنی چاہیئے ۔تھانے میں گیا ۔ شہاب سلمان سے ملا ۔ یقیناً اسے ہمارے جانے سے حوصلہ ملا ہو گا ۔ وہ خوش ہوا ۔ مافیا کو پیغام گیا کہ صحافی اس کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ورنہ جاہل پولیس اہلکار اِس سے کہہ رہا تھا کہ صحافی ہونے کا لائسنس دکھاؤ ۔ ۔ ۔ صحافیو اب بتاؤ لائسنس 🙂

