ہماری نوجوان نسل آج سوشل میڈیا کی دنیا میں ایسے چمکتی ہے جیسے ہر انسان ہیرو اور ہرڑ کی کوئین ، اور ہرلڑ کا نچنڈ ہو کم از کم اپنے موبائل کے کیمرے میں ہر صبح جب وہ آئینے میں دیکھتی یا دیکھتا ہے تو کچھ سمجھ میں آتا ہے ،مگر جب کیمرہ بند ہوتا ہے، لائیکس ختم ہوتے ہیں، اور و یوز نہ آئیں تو یہی تو جوان حقیقی زندگی کے چیلنجز سے گھبرا جاتے ہیں ، والدین بھی حیران ہیں وہ ہرون کہتے ہیں، بیٹا بیٹی پڑھو محنت کرو، ذمہ داری اٹھاؤ مگر اکثر خود بھی نہیں سمجھ پائے کہ آج کا نوجوان کس دنیا میں جی رہا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نو جوان فلٹر کے پیچھے چھپ کر زندگی کے اصل رنگ نہیں دیکھتے اور والدین فلٹر کے پیچھے سے بات کرتےہوئے حقیقی مسائل کو سمجھ نہیں پاتے ، آج کے نوجوان دو دنیاؤں میں جیتے ہیں، ایک وہ جہاں لائیکس فلٹر ز اور فالورز ہیں، دوسری وہ جہاں ہوم ورک ، جاب اور زندگی کے چیلنجز ہیں لڑکیاں ہر گھنٹے میک اپ فلٹر اور کپشنز پر لگادیتی ہیں ، اور لڑکے ویوز ، گیمنگ اور لائیو سٹریمنگ میں وقت نکالتے ہیں، مسئلہ وقت کی کمی نہیں ترجیح کی الجھن ہے، مگر دونوں فخر سے کہتے ہیں، میں مصروف ہوں ، مداحیہ بات یہ ہے کہ لڑ کی باورچی خانے میں جو پانچ منٹ نہیں گزارسکتی ، وہ تین گھنٹے انسٹا گرام پرسرگرداں رہتی ہے، اور دو ہلڑ کا جو صبح دفتر یا پڑھائی کے لیے سنتی دکھاتا ہے دو رات بھر وڈیوز دیکھتا ہے، یا لائیو آتا ہے، یہ تضاد صرف مزاحیہ نہیں، سنجیدہ بھی ہے کیونکہ اصل زندگی بی رویے مستقبل نقصان پہنچاتے ہیں فلٹر وقتی خوبصورتی دیتا ہے، مگر اصل اعتما دل اور دماغ سے آتا ہے، والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہر نا پسندیدہ رویہ کوسزا دینے کی بجائے مثبت انداز سے سمت دینا زیادہ موثر ہے ، مزاح کے ساتھ نصیحت زیادہ اثر رکھتی ہے، اگر موبائل بند ہو جائے تو کیا پھر بھی اسٹار گوگی یا اسٹڈی روم میں ہیرو بنو گے، یہ کالم طنز کے لیے نہیں بلکہ آئینہ دکھانے کے لیے ہے تا کہ نو جوان خود پر غور کریں اور والدین سمجھ سکیں کہ انھیں کیسے رہنمائی کرنی ہے، سب نو جوان خود کوڑا کیٹل سپر ہیرو سمجھتے ہیں، مگر حقیقی زندگی کے کاموں سے بچتے ہیں ، والدینبھی اکثر سوچتے ہیں کہ بچہ محض عیب دار ہے حالانکہ اصل مسئلہ سمت اور رہنمائی کی کمی ہے، آج کے نو جوانوں کو یہ مجھنا ہو گا کہ فلٹر اور کیمر صرف ذریعہ ہیں، حقیقی زندگی میں ہنر منت جبر اور ذمہ داری سب سے اہم ہیں مردانگی صرف کمانے کا نام نہیںبلکہ سیکھنے ، برداشت اور ایمانداری کا بھی نام ہے، خود اعتمادی فلٹر سے نہیں خود آگاہی اور مستقل مزاجی سے آتی ہے، والدین کامشورہ اور محبت کے ساتھ سمجھانا بہت ضروری ہے، نوجوان اور والدین کے درمیان بات چیت ،صبر اور ایک دوسرے کی دنیا سمجھنے کی ضرورت ہے، سوچ یہ بھی آتی ہے، اگر کل موبائیل بند ہو جائے فلٹر غائب ہو جائیں، کائیکس اور و یوز نہ آئیں تو کیا نوجوان خود کو پھر بھی قابل، با وقار اور محض انسان سمجھیں گے ؟ اور والدین کو کیا سمجھیں گے انھوں نے صحیح رہنمائی کی؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو پھر سمجھ جائیں مزاح کے ساتھ اصلاح بھی کامیاب ہوگئی ، کیونکہ اصل ہیر ووہ ہے جو اسکرین کے بغیر بھی زندگی کے میدان میں کھڑا ہو، اور اصل کو مکین وہ ہے جو فلٹر کے بغیر بھی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے، یا درکھیں فلٹر نظر بدل سکتا ہے مگر کردار اور محنت وقت کے ساتھ ہی پر کھا جاتا ہے۔

