اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):بین الاقوامی میڈیا وٹیکنالوجی سلوشنز کے ادارہ بلوم برگ نے کہاہے کہ دسمبر میں پاکستان کی مہنگائی متوقع حد سے کم رفتار سے بڑھی ہے، جمعرات کواپنی ایک رپورٹ میں ادارے نے کہاہے کہ پاکستان میں دسمبر کے دوران مہنگائی کی رفتار توقعات سے کم رہی جس نے معاشی نمو کو سہارا دینے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ میں کمی کے فیصلے کو درست ثابت کر دیا ہے۔پاکستان بیورو آف شماریات کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں صارفین کیلئے قیمتوں کااشاریہ سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد بڑھا، یہ شرح بلومبرگ سروے میں ماہرین کے 5.8 فیصد کے اوسط اندازے سے کم رہی، جبکہ نومبر میں یہی شرح 6.1 فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 15 دسمبر کو پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر لے آیا۔سٹیٹ
بینک نے اس فیصلے کی وجہ قیمتوں کے دبائو میں استحکام اور چار مسلسل پالیسی اجلاسوں میں شرحِ سود برقرار رکھنے کے بعد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت کو قرار دیا۔ دوسری جانب وزارتِ خزانہ نے دسمبر کے لیے مہنگائی کی شرح 5.5 سے 6.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں دسمبر کے دوران سالانہ بنیاد پر 3.24 فیصد اضافہ ہوا، جو نومبر میں 5.53 فیصد تھا۔اس کے برعکس رہائش اور توانائی کے شعبے میں قیمتیں دسمبر میں 6.86 فیصد بڑھیں، جبکہ ایک ماہ قبل یہ اضافہ 5.34 فیصد تھا۔ اے کے ڈی سیکیورٹیز ریسرچ کے ڈائریکٹر محمد اویس اشرف نے بلوم برگ کوبتایا کہ ہماری توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط شرح 6.3 فیصد اور مالی سال 2027 میں 4 فیصد رہے گی۔ یہ اندازہ بہتر غذائی رسد، عالمی سطح پر تیل کی نسبتاً کم قیمتوں اور توانائی کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے اضافوں میں کمی کے مفروضوں پر مبنی ہے،۔تاہم، مالیاتی نظم و ضبط میں ممکنہ بگاڑ، عالمی توانائی کی رسد میں جھٹکے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہماری مہنگائی کی پیش گوئی کے لیے بڑے خطرات ہیں ۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اگرچہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، تاہم خوراک کی فراہمی بڑی حد تک متبادل ذرائع سے پوری کی گئی اور مجموعی مہنگائی کا دبائو قابو میں رہا۔
