پانی کسی بھی قوم کے لیے زندگی بقا اور ترقی کی علامت ہوتا ہے، مگر پاکستان میں یہی پانی آج سب سے بڑا قومی بحران بنتا جا رہا ہے، یہ بحران محض قلت آب تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ڈیمز کی سیاست صوبائی اختلافات اور خاص طور پر بلوچستان کی پانی کے حوالے سے درینہ شکایات جڑی ہوئی ہیں، اگر اس مسئلے کو سنجیدگی، انصاف اور قومی سوچ کے ساتھ حل نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ بحران سماجی بے چینی ، معاشی تباہی اور صوبائی بد اعتمادی کوند ید گہرا کر دے گا، پاکستان میں پانی کی قلت ایک نا قابل تردید حقیقت بن چکی ہے، فی کس پانی کی دستیابی خطر ناک حد تک کم ہو چکی ہے، جبکہ آبادی میں مسلسل اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، کمزور آبی نظم و نسق اور پرانے انفراسٹر کھر نے صورت حال کو ندید گھمبیر بنادیا ہے، مگر اس مجموعی بحران میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے، جہاں پانی کی کمی صرف مسئلہ نہیں بلکہ المیہ بن چکی ہے، بلوچستان کا جغرافیہ، آب و ہو اور قدرتی حالات دیگر صوبوں سے مختلف ہیں، یہاں بارشیں کم، در یا محد و داور زیر زمین پانی ہی زندگی کی واحد امید سمجھا جاتا رہا ہے، بد انتظامی بے ذریع ٹیوب ویلز اور جدید ریچارج نظام کی عدم موجودگی نے زیر زمین پانی کو بھی خطر ناک حد تک نیچے پہنچا دیا ہے، کوئٹہ، مستونگ، قلات اور دیگر علاقوں میں پانی کی سطح سینکڑوں فٹ نیچے جا چکی ہے، جس سے عام شہری ، کسان اور چہر وا ہے سب متاثر ہورہے ہیں، بلوچستان کی سب سے بڑی شکایت ہی یہی ہے کہ قومی سطح پر پانی کی پالیسی بناتے وقت اسی صوبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ، بڑے ڈیمز ، نہرے منصوبے اور آبی ذخائر زیادہ تر ان علاقوں میں تعمیر ہوئے جہاں پہلے ہی پانی کے وسائل نسبتا بہتر تھے، دوسری جانب بلوچستان کے لیے چھوٹے اور درمیانے ڈیمز کے منصوبے یا تو کاغذوں تک محدودر ہے یا فنڈ ز کی کمی اور سیاسی عدم دلچسپی کی نذر ہو گئے، ڈیمز پاکستان کے لیے ناگزیر ضرورت ہیں، ہنگران پر ہونے والی سیاست نے مسئلے کو ندید پیچیدہ بنادیا ہے، ہر نیا ڈیم صوبائی خدشات سیاسی نعروں اور اعتماد کے فقدان کا شکار ہو جاتا ہے، کسی صوبے کو خدشہ ہوتا ہے، کہ اس کا پانی کم ہو جائے گا تو کسی کو یہ خوف لاحق ہو ہے، کہ اس کا پانی کم ہو جائے گا تو
کسی کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اس کی زمینیں یا حقوق متاثر ہوں گے، بلوچستان میں یا احساس گہرا ہے کہ ڈیمز سے حاصل ہونے والے فوائد اس تک نہیں پہنچتے ، جبکہ فیصلے اس کی مرضی کے بغیر کر لیے جاتے ہیں، اس پر سوال یہ آتا ہے ذہن میں کہ کیا واقعی ڈیمز بلوچستان کے مسائل کاحل ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے لیے صرف بڑے ڈیمز نہیں بلکہ مقامی سطح پر چھوٹے ڈیمز ، چیک ڈیمز ، برساتی نالوں پر ذخیره آب اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصو بے زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں ،بد قسمتی سے ان منصوبوں پر توجہ کم اور سیاست زیادہ رہی ہے، پانی کی سیاست نے بلوچستان میں احساس محرومی کو بڑھایا ہے، جب صوبے کو یہ لگے کہ اُس کے بنیادی حق پر بھی کھوتا کیا جارہا ہے تو نتیجہ بد اعتمادی کی صورت میں نکلتا ہے، پانی جیسے بنیادی مسئلے کوسیاسی پوائنٹ اس کورنگ کے بجائے قومی یکجہتی کا ذریعہ بنانا ہوگا، یہ وقت الزام تراشی کرنے کا نہیں ہے حل کی طرف آئیں تو سب سے پہلے پانی کو حقیقی معنوں میں قومی سلامتی کا مسئلہ تسلیم کرنا ہو گا، بلو چستان کے لیے اور اس کی عوام کے لیے جامع اور علیحدہ آبی پالیسی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جو اُس کے زمینی حقائق ، آب و ہوا اور آبادی کو مد نظر رکھ کر بنائے جائیں ، زیر زمین پانی کے لیے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی اور موثر نگرانی نا گزیر ہے، جبکہ بیچارن و میلز اور بارش کے پانی کو زمین میں واپس جذب کرنے منصوبے فوری طور پر شروع کیئے جانے چائیں ، دوسرا اہم قدم بلوچستان میں چھوٹے اور درمیا نے ڈیمز کے منصوبوں کو ترجیح دینا ہے، یہ منصوبے کم لاگت کم تنازعات اور فوری فائدے کے حامل ہوتے ہیں، مقامی آبادی کو ان منصوبوں میں شریک کرنا اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردارا دا کر سکتا ہے، جب عوام کو یہ احساس ہو گا کہ منصوبہ انہی کے فائدے کے لیے ہے تو اس کی حفاظت اور کامیابی بھی یقینی ہوگی ،اگر شفافیت اور صداقت ہو معاملات میں تو پانی کی تقسیم، فنڈز کا اجراء اور منصوبوں کی تکمیل میں شفاف نظام قائم کرنا ہوگا ، اگر بلوچستان کو اس کا جائز حصہ ملے اور یہ حصہ عملی طور پر نظر بھی آئے ، وہاں کی عوام کو شکوک وشبہات خود بخود کم ہو جائیں گے، وفاقی اور صوبوں کے درمیان با قائدہ مکاملہ اور مشتر کہ نگرانی کے نظام بھی ضروری ہیں، ذرعی شعبے میں جدید آبپاشی نظام متعارف کروانا بھی حل کا اہم جزو ہے، بلوچستان میں ڈراپ اور اسپر نکلو سسٹم پانی کی بجٹ کے ساتھ زرعی پیداوار بڑھا سکتا ہے، حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو سبسڈی تربیت اور سہولیات فراہم کرے تا کہ وہ روایتی اور پانی ضائع کرنے والے طریقوں سے جدید نظام کی طرف آسکیں ، ہم سب کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بلوچستان کے پانی کے حوالے سے شکایات محض شکوے نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں ان شکایات کو نظر انداز کرنا قومی پجہتی کے لیئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اگر حکمرانوں نے بروقت، منصفانہ اور دانشمندانہ فیصلے کر لیے تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان اس بحران سے نکل سکتا ہے، اور نہ پانی کی کمی صرف ڈ مین کو نہیں دلوں کو بھی پچر کر دے گی۔

